السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: التشديد في غصب الأراضي وتضمينها بالغصب باب: زمینوں کو غصب کرنے کی وعید اور غصب کی صورت میں ان کی ضمانت لازم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11535
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا حَرْبٌ، عَنْ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ، وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ لَهَا ذَلِكَ، فَقَالتْ: يَا أَبَا سَلَمَةَ، اجْتَنِبِ الْأَرْضَ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَرْبِ بْنِ شَدَّادٍ وَأَبَانَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ يَحْيَى، وَاسْتَشْهَدَ بِهِمَا.حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ سے روایت ہے کہ ان کے اور لوگوں کے درمیان زمین کے بارے میں جھگڑا تھا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ان کو یہ بتایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابو سلمہ! زمین کے جھگڑے سے بچو، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ”جس نے ایک بالشت برابر زمین کے معاملہ میں ظلم کیا اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“