حدیث نمبر: 11514
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ لَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَخْبِرْنِي بِأَعْجَبِ شَيْءٍ رَأَيْتَهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ " قَالَ: مَرَّتِ امْرَأَةٌ عَلَى رَأْسِهَا مِكْتَلٌ فِيهِ طَعَامٌ، فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ، فَأَصَابَهَا فَرَمَى بِهِ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا وَهِيَ تُعِيدُهُ فِي مِكْتَلِهَا وَهِيَ تَقُولُ: وَيْلٌ لَكَ يَوْمَ يَضَعُ الْمَلِكُ كُرْسِيَّهُ فَيَأْخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ. فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فَقَالَ: " كَيْفَ تُقَدَّسُ أُمَّةٌ لَا تَأْخُذُ لِضَعِيفِهَا مِنْ شَدِيدِهَا حَقَّهُ وَهُوَ غَيْرُ مُتَعْتَعٍ؟ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حبشہ کی زمین سے واپس آئے تو نبی ﷺ ان سے ملے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حبشہ کی زمین کی عجیب چیز کے بارے میں بتاؤ جو تم نے دیکھی ہو۔“ انہوں نے کہا: ایک عورت گزری جس کے سر پر ایک کھانے والا ٹوکرا تھا، ایک آدمی گھوڑے پر سوار اس کے پاس سے گزرا اور وہ اس سے ٹکرا گیا، جس سے اس کا ٹوکرا گر گیا۔ میں اس عورت کی طرف دیکھ رہا تھا، وہ ان پھلوں کو اپنے ٹوکرے میں جمع کر رہی تھی اور کہہ رہی تھی: تیرے لیے بربادی ہو اس دن جس دن مالک اپنی کرسی رکھے گا، پھر وہ ظالم سے مظلوم کا حق لے گا۔ نبی ﷺ مسکرا دیے حتی کہ آپ ﷺ کی داڑھیں نظر آنے لگیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ امت کیسے پاک ہوگی جو اپنے طاقت ور سے حق کا مطالبہ نہ کرسکے جب کہ وہ متعتع نہ ہو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الغصب / حدیث: 11514
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»