السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: نصر المظلوم والأخذ على يد الظالم عند الإمكان باب: مظلوم کی مدد کرنے اور استطاعت کے وقت ظالم کا ہاتھ پکڑنے (اسے ظلم سے روکنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ مُقْرِنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: أَمَرَنَا بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، وَنَهَانَا عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ؛ فَإِنَّهُ مَنْ يَشْرَبُ فِيهَا فِي الدُّنْيَا لَا يَشْرَبُ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ، وَعَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ، وَعَنْ رُكُوبِ الْمَيَاثِرِ، وَلِبَاسِ الْقَسِّيِّ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْإِسْتَبْرَقِ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الشَّيْبَانِيِّ وَغَيْرِهِ.سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع کیا: آپ ﷺ نے ہمیں مریض کی عیادت کرنے کا حکم دیا اور جنازہ پڑھنے کا اور سلام کو عام کرنے کا اور دعوت قبول کرنے کا اور چھینک کا جواب دینے کا اور مظلوم کی مدد کرنے کا اور قسموں کو پورا کرنے کا، اور ہمیں چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”جو دنیا میں اس میں پیے گا وہ آخرت میں نہ پی سکے گا“ اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا اور ریشم کی زین پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے اور قسی (ریشم کی ایک قسم ہے) ریشم، دیباج (ریشم کی قسم) اور استبرق (ریشم کی ایک قسم) کا لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔