حدیث نمبر: 11462
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَفْصٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: " شَهِدَ عِنْدَهُ رَجُلَانِ شَهِدَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَلْفٍ وَثَلَاثِمِائَةٍ، وَشَهِدَ الْآخَرُ عَلَى أَلْفٍ، فَقَضَى عَلَيْهِ بِأَلْفٍ، فَقَالَ: تَقْضِي عَلَيَّ وَقَدِ اخْتَلَفَتْ شَهَادَتُهُمَا؟ قَالَ: اسْتَقَامَتْ عَلَى أَلْفٍ " وَقَالَ سُلَيْمَانُ: إِنَّهُمَا قَدِ اجْتَمَعَا عَلَى أَلْفٍ.حافظ ثناء اللہ
شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو آدمیوں نے گواہی دی، ان میں سے ایک نے ایک ہزار تین سو پر گواہی دی اور دوسرے نے ایک ہزار کی گواہی دی تو انہوں نے اس (مدعا علیہ) کے خلاف ایک ہزار کا فیصلہ کر دیا۔ اس نے کہا: آپ میرے خلاف فیصلہ کر رہے ہیں حالانکہ ان دونوں کی شہادتیں مختلف ہیں؟ انہوں نے کہا: ایک ہزار پر (دونوں کی گواہی) درست ٹھہری ہے۔ سلیمان کہتے ہیں: وہ دونوں ایک ہزار پر متفق ہو گئے تھے۔