السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإقرار— اقرار کا بیان
باب: الاعتراف بالحقوق والخروج من المظالم باب: حقوق کا اعتراف کرنے اور ظلم و زیادتیوں سے نکلنے (توبہ کرنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، أنبأ نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَخْرِزَانِ خَرِيزًا وَفِي الْبَيْتِ حَدَاثٌ، فَأَخْرَجَتْ إِحْدَاهُنَّ يَدَهَا تَشْخَبُ دَمًا فَقَالَتْ: أَصَابَتْنِي هَذِهِ، وَأَنْكَرَتِ الْأُخْرَى، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَقَالَ: " لَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ نَاسٍ وَأَمْوَالَهُمُ، ادْعُهَا فَاقْرَأْ عَلَيْهَا {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [آل عمران: ٧٧] " فَقَرَأَ عَلَيْهِنَّ، فَاعْتَرَفَتْ، فَبَلَغَهُ فَسَّرَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ.ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف دو عورتوں کے بارے میں لکھا، دونوں موزے بنایا کرتی تھیں۔ گھر میں باتیں کرنے لگیں، ان میں سے ایک نکلی تو اس کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا، کہنے لگی: مجھے اس عورت نے تکلیف پہنچائی ہے اور دوسری انکار کر رہی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں لکھا: بیشک رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا ہے کہ ”قسم مدعی علیہ پر ہے“ اور کہا کہ ”اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے تو لوگ دوسرے لوگوں کے خون اور اموال کا دعویٰ کرنے لگیں گے“۔ اس عورت کو بلاؤ اور اسے یہ آیت پڑھ کر سناؤ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور نہ اللہ ان سے کلام کریں گے اور نہ ان کی طرف نظرِ رحمت سے دیکھیں گے قیامت کے دن اور نہ ان کو پاک کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے“۔ جب ان عورتوں پر یہ آیت تلاوت کی تو اس عورت نے اعتراف کر لیا۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خبر ملی تو خوش ہوئے۔