السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: استحلاف من ذكر عسرة باب: جو شخص تنگ دستی کا دعویٰ کرے اس سے قسم لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11290
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أنبأ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " كَانَا يَسْتَحْلِفَانِ الْمُعْسِرَ: بِاللهِ مَا تَجِدُ مَا تَقْضِيهِ مِنْ عَرْضٍ، وَلَا فَرْضٍ، أَوْ قَالَ: نَاضٍّ، وَلَئِنْ وَجَدْتَ مِنْ حَيْثُ لَا يُعْلَمُ لَتَقْضِيَنَّهُ، ثُمَّ يُخَلِّيَانِ سَبِيلَهُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما تنگ دست آدمی سے اللہ کی قسم لیتے تھے کہ کیا واقعی تیرے پاس ادائیگی کے لیے کچھ نہیں ہے؟ کوئی سامان اور نہ کسی سے قرض لے کر یا فرمایا: کوئی درہم اور اگر تجھے کسی سے کچھ مل جائے جس کا ہمیں پتہ نہ چلے تو تو اس سے ادائیگی کرے گا۔ پھر اس کا راستہ چھوڑ دیتے، یعنی اسے مہلت دیتے تھے۔