حدیث نمبر: 11255
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ قَالَ: قَدْ كَانَ فِيمَا قَرَأْنَا عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ ⦗٧٨⦘ بَاعَ مَتَاعًا، فَأَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَهُ وَلَمْ يَقْبِضِ الْبَائِعُ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا، فَوَجَدَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِنْ مَاتَ الْمُشْتَرِي فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: الَّذِي أَخَذْتُ بِهِ أَوْلَى بِي، يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ خَلْدَةَ، مِنْ قِبَلِ أَنَّ مَا أَخَذْتُ بِهِ مَوْصُولٌ، يَجْمَعُ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَوْتِ وَالْإِفْلَاسِ، وَحَدِيثُ ابْنِ شِهَابٍ مُنْقَطِعٌ، وَلَوْ لَمْ يُخَالِفْهُ غَيْرُهُ لَمْ يَكُنْ مِمَّا يُثْبِتُهُ أَهْلُ الْحَدِيثِ، وَلَوْ لَمْ يَكُنْ فِي تَرْكِهِ حُجَّةٌ إِلَّا هَذَا انْبَغَى لِمَنْ عَرَفَ الْحَدِيثَ تَرَكُهُ مِنَ الْوَجْهَيْنِ، مَعَ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَرْوِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثًا لَيْسَ فِيهِ مَا رَوَى ابْنُ شِهَابٍ عَنْهُ مُرْسَلًا، إِنْ كَانَ رَوَاهُ كُلَّهُ، وَلَا أَدْرِي عَمَّنْ رَوَاهُ، وَلَعَلَّهُ رَوَى أَوَّلَ الْحَدِيثِ وَقَالَ بِرَأْيِهِ آخِرَهُ، وَمَوْجُودٌ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ انْتَهَى بِالْقَوْلِ: " فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ "، أَشْبَهَ أَنْ يَكُونَ مَا زَادَ عَلَى هَذَا قَوْلٌ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، لَا رِوَايَةَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ مَوْصُولًا وَلَا يَصِحُّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی اپنا کوئی سامان بیچے، پھر خریدنے والا مفلس ہو جائے اور ابھی تک بیچنے والے نے رقم نہ لی ہو اور وہ اپنا سامان بعینہ پالے تو وہ زیادہ حق دار ہے اور اگر خریدنے والا مر جائے تو سامان کا مالک دوسرے قرض خواہوں کے برابر حصہ دار ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس حدیث کو میں نے لیا ہے یعنی ابن خلدہ کی حدیث، وہ اس اعتبار سے زیادہ اولیٰ ہے کہ وہ موصولاً ہے، اس میں نبی ﷺ نے افلاس اور موت دونوں کا ذکر کیا ہے اور ابن شہاب کی حدیث منقطع ہے۔ اگرچہ یہ حدیث دوسروں کے معارض نہ بھی ہوتی تب بھی محدثین کے نزدیک یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اگرچہ اس حدیث کو ترک کرنے کی صرف یہی دلیل ہے۔ اس سے بھی وہ شخص جو احادیث کی پہچان رکھتا ہے اس کے لیے دو وجوہات کی بنا پر اس حدیث کو ترک کرنا ضروری ہے باوجود اس کے کہ جو حدیث ابوبکر بن عبدالرحمن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اس میں وہ الفاظ نہیں ہیں جو ابن شہاب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں بشرطیکہ اس نے روایت مکمل ذکر کی ہو اور میں نہیں جانتا کہ اس نے کس سے روایت کیا ہے۔ شاید اس نے پہلا حصہ تو حدیث کا بیان کیا ہے اور دوسرے حصے میں انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور ابوبکر کی جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اس میں آخری الفاظ «فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ» ”پس وہ اس کا زیادہ حق دار ہے“ کے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اس سے جو اگلے الفاظ ہیں وہ ابوبکر کا قول ہے حدیث کے الفاظ نہیں ہیں اور اسماعیل بن عیاش نے زبیدی سے عن امام زہری کا جو موصولاً بیان کیا ہے وہ درست نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11255
درجۂ حدیث محدثین: موطا امام مالك 2686
تخریج حدیث «موطا امام مالك 2686»