حدیث نمبر: 11195
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دُعِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ الشَّعِيرِ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ غَدَاةٍ يَقُولُ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلَا صَاعُ تَمْرٍ "، وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَ نِسْوَةٍ، وَلَقَدْ رَهَنَ يَوْمَئِذٍ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ أَخَذَ مِنْهُ صَاعًا مَا وَجَدَ مَا يَكْفِيهِ، أَوْ قَالَ: مَا يَفْتَكُّهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو جو کی روٹی اور چربی کی دعوت دی گئی۔ میں نے ایک صبح آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، آلِ محمد کے پاس ایک صاع غلہ بھی نہیں ہے اور نہ ایک صاع کھجور ہے۔“ اور اس دن آپ ﷺ کی نو بیویاں تھیں، آپ ﷺ نے اپنی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے ہاں گروی رکھی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے اس سے ایک صاع غلہ خریدا تھا اور آپ ﷺ کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ آپ اپنی زرہ چھڑوا لیتے۔