حدیث نمبر: 4082
- " العقل على العصبة، وفي السقط غرة: عبد أو أمة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا حمل بن نابغہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی دو بیویاں تھیں ، ( ایک کا نام ) لحیانیہ اور ( دوسری کا نام ) معاویہ تھا ، جو قبیلہ معاویہ بن زید سے تھی ۔ وہ دونوں کہیں اکٹھی ہوئیں اور ایک دوسرے سے غیرت کھا گئیں ، پس معاویہ نے پتھر اٹھایا اور لحیانیہ کو دے مارا ، وہ حاملہ تھی ، اسے پتھر لگا تو وہ مر گئی اور اس کا ناتمام بچہ ساقط ہو گیا ۔ حمل بن مالک نے عمران بن عویمر سے کہا : میری بیوی کی دیت ادا کرو ۔ دونوں اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دیت ( قاتل عورت کے ) عصبہ پر ہے اور ناتمام بچے ( کی دیت ) ایک غلام یا لونڈی ہے ۔“