حدیث نمبر: 4064
- (مرَّ الملأ من قريش على رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؛ وعنده صهيب، وبلال، وعمار، وخباب، ونحوهم من ضعفاء المسلمين، فقالوا: يا محمد! اطردهم، أرضيت هؤلاء من قومك، أفنحن نكون تبعاً لهؤلاء؟ ! أهؤلاء منَّ الله عليهم من بيننا؟ ! فَلَعَلَّكَ إن طردتهم أن نأتيك! قال: فنزلت: (ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشيِّ يريدون وجهه ما عليك من حسابهم من شيء وما من حسابك عليهم من شيء فتطردهم فتكون من الظالمين)) .
حافظ محفوظ احمد
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریش کے سردار ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے اور آپ کے پاس صہیب ، بلال ، عمار ، خباب رضی اللہ عنہم اور ان جیسے کمزور مسلمانوں میں سے کچھ افراد بیٹھے ہوئے تھے ، قریش کے سرداروں نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ! ان کو دھتکار دے ، کیا تو اپنی قوم میں سے ان پر راضی ہو گیا ہے ؟ کیا ہم ان لوگوں کے پیروکار ہوں گے ؟ کیا ہم میں سے اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان کیا ہے ؟ اگر تو ان کو دھتکار دے تو شاید ہم تیرے پاس آیا کریں ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ”( اے محمد ! ) جو صبح شام اللہ کی خوشنودی کے لیے اسے پکارتے ہیں ان کو نہ دھتکارنا ۔ ان کے حساب میں سے نہ کچھ تیرے ذمہ ہے اور نہ تیرے حساب میں سے کچھ ان کے ذمے ہے ۔ اگر آپ نے ان کو دھتکارا تو آپ ظالموں میں سے ہو جائیں گے ۔“