کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: کافر کی جہنم سے آزاد ہونے کی امید کرنا
حدیث نمبر: 4022
- " يقول الله لأهون أهل النار عذابا يوم القيامة: يا ابن آدم! كيف وجدت مضجعك؟ فيقول: شر مضجع، فيقال له: لو كانت لك الدنيا وما فيها أكنت مفتديا بها؟ فيقول: نعم، فيقول: كذبت قد أردت منك أهون من هذا، وأنت في صلب " وفي رواية: ظهر " آدم أن لا تشرك بي شيئا ولا أدخلك النار، فأبيت إلا الشرك ، فيؤمر به إلى النار ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏قیامت والے دن اللہ تعالیٰ آگ کے سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا آدمی سے پوچھے گا : ابن آدم ! کیسی منزل ہے ؟ وہ کہے گا : بدترین منزل ہے ۔ اسے کہا جائے گا : اگر تیری ملکیت میں دنیا و مافیہا ہوتا تو کیا تو ( ‏‏‏‏ اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ) اس فدیے میں دے دیتا ؟ وہ کہے گا : جی ہاں ۔ اللہ تعالیٰ کہے گا : تو جھوٹا ہے ، جب تو اپنے باپ آدم کی پیٹھ میں تھا ، تو میں نے تجھ سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ، میں تجھے آگ میں داخل ہونے سے بچا لوں گا ۔ لیکن تو نے اس بات کا انکار کر دیا تھا اور میرے ساتھ شرک کیا تھا ۔ پھر اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دے دیا جائے گا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الجنة والنار / حدیث: 4022