حدیث نمبر: 4019
- " يجاء بالرجل يوم القيامة، فيلقى في النار، فتندلق أقتابه (وفي رواية: أقتاب بطنه) في النار، فيدور كما يدور الحمار برحاه، فيجتمع أهل النار عليه فيقولون: يا فلان ما شأنك؟ أليس كنت تأمرنا بالمعروف، وتنهانا عن المنكر؟ قال: كنت آمركم بالمعروف ولا آتيه، وأنهاكم عن المنكر وآتيه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابووائل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کسی نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا :اگر آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں اور ان سے ان کے کئے کے بارے میں بات کریں ؟ انہوں نے کہا تمہارا یہ خیال ہو گا کہ میں ان سے جو گفتگو کروں گا وہ تم لوگوں کو بتا دوں گا ؟ میں دروازہ کھولے بغیر ان سے راز دارانہ انداز میں بات کروں گا ، کیونکہ ایک حدیث کی روشنی میں میں نہ یہ چاہتا ہوں کہ میں سب سے پہلے دروازہ کھولوں اور نہ میں اپنے امیر ، اگر وہ واقعی امیر ہے ، کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ خیرالناس ہے ۔ کہا گیا : وہ کون سی حدیث ہے ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک آدمی کو روز قیامت لایا جائے گا ، اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا ، اس کے پیٹ کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ چکی کے گرد گھومنے والے گدھے کی طرح اس کے اردگرد چکر لگانا شروع کر دے گا ۔ لوگ اسے دیکھ کر کہیں گے : او فلاں ! تجھے یہاں کیوں پھینکا گیا ؟ تو تو ہمیں نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا ؟ وہ کہے گا : میں تم لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتا تھا ، لیکن خود نہیں کرتا تھا اور تمہیں تو برائی سے منع کرتا تھا ، لیکن خود باز نہیں آتا تھا ۔“