حدیث نمبر: 4018
- (يُؤْتَى بالرجلِ مِن أهلِ الجنةِ، فيقول [الله] له: يا ابنَ آدمَ! كيف وجدتَ مَنزلَكَ؟ فيقول: أيْ ربِّ! خيرَ منزلِ، فيقول: سَلْ وتمنَّ، فيقولُ: ما أسألُ وأتمنى؟ إلا أن تَرُدَّني إلى الدنيا فَأُقتَلَ في سبيلكَ عشرَ مراتٍ، لما يرى من فضل الشهادة (وفي طريق بلفظ: من الكرامة) . وُيؤتَى بالرجل من أهلِ النارِ، فيقول [الله] له: يا ابن آدم! كيف وجدت منزلكَ؟ فيقول: أي ربِّ! شرَّ منزلٍ، فيقول [الربُّ عز وجل] له: أَتَفْتَدِي منه بِطِلاعِ الأرضِ ذهباً؟ فيقولُ: أي ربِّ! نعم. فيقولُ: كَذَبْتَ؟ قدْ سألتُكَ أقَلْ من ذلكَ وأَيْسَرَ فلم تفعل. فَيُرَدُّ إلى النار) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جنتی آدمی کو لایا جائے گا ، اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا : آدم کے بیٹے ! کیسی پائی اپنی منزل ؟ وہ کہے گا : اے میرے رب ! بہترین ٹھکانہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : سوال کر اور مزید تمنا کر وہ کہے گا : میں کس چیز کا سوال کروں اور کس چیز کی تمنا کروں ؟ ہاں ، اگر تو مجھے دنیا کی طرف واپس لوٹا دے ( تو ٹھیک ہے ) تاکہ تیرے راستے میں دس دفعہ شہید ہو سکوں ۔ وہ شہادت کی فضیلت و کرامت کی وجہ سے اس ( خواہش کا اظہار کرے گا ) ۔ پھر جہنمی آدمی کو لایا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا : اپنے ٹھکانے کو کیسا پایا ؟ وہ کہے گا : اے میرے رب ! بدترین منزل ہے ۔ رب تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو اس سے آزاد ہونے کے لیے زمیں بھر سونا دے دےگا ؟ وہ کہے گا : جی ہاں ، اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ کہے گا : تو جھوٹا ہے ، میں نے تو تجھ سے اس سے بھی کم اور آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا ، لیکن تو نے ( وہ بھی پوری ) نہیں کی ۔ پھر اسے آگ کی طرف لوٹا دیا جائے گا ۔“