کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارہ منافق اور ان کا انجم بد
حدیث نمبر: 4003
- (إنّ في أمتي اثني عشر منافقاً، لا يدخلون الجنّة ولا يجدون ريحها؛ حتى يلج الجملُ في سمّ الخياط؛ ثمانيةٌ منهم تكفيكهم الدّبيلة: سراجٌ من نار يظهرُ في أكتافهم حتى ينجم من صدورهم) .
حافظ محفوظ احمد
قیس بن عباد کہتے ہیں : ہم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اس لڑائی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا یہ تم لوگوں کی اپنی رائے کا نتیجہ ہے ، جس میں غلط یا درست ہونے کا احتمال پایا جاتا ہے ، یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اس قسم کی وصیت فرمائی ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی مخصوص نصیحت نہیں فرمائی ، آپ نے اتنا ضرور فرمایا : ”میری امت میں بارہ منافق ہوں گے ، وہ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گے ، جب تک اونٹ سوئی کے نکے میں سے داخل نہ ہو جائے ۔ ان میں سے آٹھ کو تو بڑی آفت ( پھوڑا یا ورم ) ہی کافی ہے ، یعنی آگ کا ایک شعلہ ان کے کندھوں میں ظاہر ہو کر ( اندر گھس جائے گا اور ) وہ سینے سے نمودار ہو گا ۔ “