حدیث نمبر: 4002
- " الناس يومئذ على جسر جهنم ".
حافظ محفوظ احمد
امام مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے کہا : کیا تجھے جہنم کی وسعت کا علم ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : جی ہاں ، اللہ کی قسم ! آپ کو واقعی علم نہیں ہو گا ۔ ( سنو ! ایک جہنمی کے ) کان کی لو اور کندھے کے درمیان کا فاصلہ ستر سال کی مسافت کا ہو گا ، وہاں پیپ اور خون کی وادیاں چل رہی ہوں گی ۔ میں نے کہا : نہریں چلیں گی ، انہوں نے کہا : نہریں نہیں ، وادیاں ۔ پھر فرمایا : کیا تجھے جہنم کی وسعت کا علم ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : جی ہاں اللہ کی قسم ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا : «وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ» (۳۹-الزمر:۶۷) ”اور ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوں گے ۔“ کہ اے اللہ کے رسول ! ( جب زمین و آسمان کی یہ کیفیت ہو گی تو ) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ اس وقت جہنم کے پل ( یعنی پل صراط ) پر ہوں گے ۔“