کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: وقت سے پہلے افطار کرنے والوں، کفر پر قتل ہونے والوں، زنا کرنے والوں اور اپنے بچوں کو دودھ سے محروم کرنے والی خواتیں کا انجام
حدیث نمبر: 3979
- (أَتاني رجُلان، فأَخذاَ بضَبعَيَّ، فأَتيَا بي جَبَلاً وعراً، فقالا: اصعد. فقلتُ: إنِّي لا أُطِيقُه. فقالا: إنّا سنُسهّله لك. فصعِدتُ حتّى إذا كنتُ في سَواءِ الجبَل؛ إذا أنا بأصواتٍ شديدةٍ، قلتُ: ما هذه الأصواتُ؟ قالوا: هذا عُواء أهلِ النّارِ ثم انطلقَا بي؛ فإذا أنا بقوم معلَّّقينَ بعَراقِيبهم، مشقّقة أشداقُهم، تسيلُ أشداقُهم دماً، قال، قلتُ: من هؤلاء؟ قال: هؤلاء الذين يفطرون قبل تَحِلَّةِ صومِهم. فقال: خابتِ اليهودُ والنّصارى- فقال سليمان (¬2) : ماأدري أسمعه أبو أمامة من رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، أم شيءٌ من رأيه؟! -. ثمّ انطلقا [بي] ؛فإذا بقومٍ أشدَّ شيءٍ انتفاخاً، وأنتنِهِ ريحاً، وأسودِهِ منطَراً، فقلت: من هؤلاء؟ فقال: هؤلاءِ قتلَى الكفار. ثم انطلقا بي، فإذا بقوم أشدَّ شيءٍ انتفاخاً، وأنتنِهِ ريحاً، كأن ريحَهم المراحيضُ، قلتُ: من هؤلاء؟ قال: هؤلاء الزّانُون والزّواني. ¬ (¬1) وتحرّف في "مطبوعته " (8/ 145) إلى: "أزنى الزِّنى"!! * (¬2) هو: ابن عامر أبو يحيى الراوي عن أبي أمامة رضي الله عنه. * ثم انطلقا بي؛ فإذا أنا بنساء تنهشُ ثُديَّهنَّ الحيّاتُ. قلتُ: ما بالُ هؤلاء؟! قال: هؤلاءِ اللاتي يمنعنَ أولادَهنّ ألبانَهُنَّ. ثم انطلقا بي؛ فإذا أنا بغِلمانٍ يلعبونَ بين نهرَينِ، قلتُ: من هؤلاء؟ قالا: هؤلاء ذراري المؤمنينَ. ثم أشرفا بي شرفاً؛ فإذا أنا بنفرٍ ثلاثة يشربونَ من خمر لهم، قلت: من هؤلاء؟ قال: هؤلاء جعفرٌ وزيدٌ وابنُ رواحةَ. ثم أشرفا بي شرفاً آخر؛ فإذا أنا بنفر ثلاثة، قلت: من هؤلاء؟ قال: هذا إبراهيمُ ومُوسَى وعيسَى، وهم ينتظرونَكَ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : ”‏‏‏‏میرے پاس دو آدمی آئے ، انہوں نے میرا بازو پکڑا اور مجھے ایک دشوار گزار پہاڑ کے پاس لے گئے ۔ انہوں نے مجھے کہا : اس پر چڑھو : میں نے کہا : مجھ میں تو اتنی ہمت نہیں کہ اس پر چڑھ سکوں ۔ انہوں نے کہا : ہم تیرے لیے آسان کر دیں گے ۔ سو میں نے چڑھنا شروع کر دیا ، جب میں پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو شدید قسم کی آوازیں سنائی دیں ۔ میں نے پوچھا : یہ آوازیں کیسی ہیں ؟ انہوں نے کہا جہنمیوں کی چیخ پکار ہے پھر وہ مجھے لے کر آگے چلے ، ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ وہاں کچھ لوگ الٹے لٹکائے گئے ہیں ، ان کی باچھوں کو پھاڑا جا رہا ہے اور وہاں سے خون بہہ رہا ہے ۔ میں نے کہا : یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ وقت سے پہلے روزہ افطار کر دینے والے لوگ ہیں ۔ “ پھر فرمایا : ” یہود و نصاریٰ ناکام و نامراد ہو گئے ۔“ راوی حدیث سلیمان کہتے ہیں : مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ ( ‏‏‏‏یہود و نصاریٰ کے متعلقہ ) یہ الفاظ سیدنا ابوامامہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کئے ہیں یا ان کے اپنے الفاظ ہیں ۔ ”‏‏‏‏پھر وہ دونوں مجھے لے کر آگے بڑھے ، میں کیا دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگ پھولے ہوئے ہیں ، ان سے بدترین بدبو آ رہی ہے اور انتہائی سیاہ منظر پیش کر رہے ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ مقتول کفار ہیں ۔ پھر وہ میرے ساتھ آگے بڑھے اور ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو بری طرح پھولے ہوئے ہیں ، ان سے بیت الخلاء کی طرح کی بدترین بدبو آ رہی ہے ۔ میں نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ زانی مرد اور عورتیں ہیں ۔ پھر مجھے لے کر آگے بڑھے اور ہم ایسی عوتوں کے پاس سے گزرے کہ سانپ ان کے پستانوں کو نوچ رہے ہیں ۔ میں نے پوچھا : یہ عوتیں کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ اپنے بچوں کو دودھ نہ پلانے والی عورتیں ہیں ۔ پھر وہ مجھے لے کر آگے بڑھے ، میں کیا دیکھتا ہوں کہ دو نہروں کے درمیان میں کچھ بچے کھیل رہے ہیں ۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ مومنوں کے بچے ہیں ۔ پھر وہ مجھے ایک اونچی جگہ کی طرف لے گئے ، میں کیا دیکھتا ہوں کہ تین افراد شراب پی رہے ہیں ۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ جعفر ، زید اور ابن رواحہ ( ‏‏‏‏رضی اللہ عنہم ) ہیں ۔ پھر وہ مجھے ایک اور بلند جگہ کی طرف لے گئے ، وہاں ہمیں تین افراد نظر آئے ۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ ابرا ہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ ( ‏‏‏‏علیہم السلام ) ہیں ، جو آپ کے منتظر ہیں ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الجنة والنار / حدیث: 3979