کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: جنت میں سونے کے محل
حدیث نمبر: 3955
- " دخلت الجنة، فإذا أنا بقصر من ذهب، فقلت: لمن هذا القصر؟ قالوا: لشاب من قريش، فظننت أني أنا هو، فقلت: ومن هو؟ فقالوا: لعمر بن الخطاب، (قال: فلولا ما علمت من غيرتك لدخلته، فقال عمر: عليك يا رسول الله أغار؟) ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں جنت میں داخل ہوا ، اچانک سونے کا ایک محل دیکھا ۔ میں نے پوچھا : یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے کہا : ایک قریشی جوان کا ہے ۔ مجھے خیال تھا کہ یہ میرا ہی ہو گا ( ‏‏‏‏کیونکہ میں قریشی ہوں ) ۔ بہرحال میں نے پوچھا : وہ قریشی کون ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے ۔ ‏‏‏‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عمر ! اگر تیری غیرت و حمیت کا مسلئہ نہ ہوتا تو میں اس میں ضرور داخل ہو جاتا ۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں آپ پر غیرت کھا سکتا ہوں ؟
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الجنة والنار / حدیث: 3955