کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کی تعداد
حدیث نمبر: 3922
- " ليدخلن الجنة من أمتي سبعون ألفا لا حساب عليهم ولا عذاب، مع كل ألف سبعون ألفا ".
حافظ محفوظ احمد
شریح بن عبید کہتے ہیں : سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ حمص کے علاقے میں بیمار ہو گئے ، اس وقت عبداللہ بن قرط ازدی حمص کا گورنر تھا ، اس نے ان کی بیمار پرسی نہیں کی ۔ ایک دن کلاعی قبیلے کا آدمی بیمار پرسی کے لیے ثوبان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا تم لکھ سکتے ہو ؟ اس نے کہا: جی ہاں ۔ انہوں نے کہا: لکھو ۔ اس نے عبداللہ بن قرط کو یہ خط لکھا : مولائے رسول ثوبان کی طرف سے، بات یہ ہے کہ اگر تیرے علاقے میں موسیٰ اور عیسیٰ کا غلام ( ‏‏‏‏میری طرح بیمار ) ہوتا تو تو ضرور اس کی بیمار پرسی کرتا ۔ پھر خط کو بند کر دیا اور سیدنا ثوبان نے اس سے پوچھا: کیا یہ خط اس تک پہنچا دو گے ؟ اس نے کہا: جی ہاں ۔ وہ خط لے کر چلا گیا اور ابن قرط تک پہنچا دیا ۔ جب اس نے خط پڑھا تو گھبرا کر کھڑا ہو گیا ۔ لوگوں نے کہا: اسے کیا ہوا ہے ؟ آیا کوئی نیا معاملہ پیش آیا ہے ؟ وہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، ان کی بیمار پرسی کی ، ان کے پاس کچھ دیر بیٹھا رہا اور جب اٹھ کر جانے لگے تو انہوں نے اس کی چادر پکڑ لی اور کہا: بیٹھ جاؤ ، میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میری امت کے ستر ہزار افراد حساب و کتاب اور عقاب و عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار بھی داخل ہوں گے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الجنة والنار / حدیث: 3922