کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: عیسیٰ علیہ السلام کو معبودیت کی تہمت سے کیسے پاک کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 3877
- " تلقى عيسى حجته، فلقاه الله في قوله " * (وإذ قال الله يا عيسى بن مريم أأنت قلت للناس اتخذوني وأمي إلهين من دون الله) * (¬1) ، فلقاه الله " * ( سبحانك ما يكون لي أن أقول ما ليس لي بحق) * (¬2) ، الآية كلها ".
حافظ محفوظ احمد
طاؤس کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : عیسٰی علیہ السلام نے اپنی حجت ( ‏‏‏‏اﷲ تعالیٰ سے ) سیکھی اور اﷲ تعالیٰ نے انہیں سکھا دی ، جس کا ذکر اس آیت میں ہے : «وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّـهِ» ‏‏‏‏ ”اور جب اﷲ کہے گا : اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تو نے لوگوں کہ کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مجھے اور میری ماں کو اپنا معبود بنا لو۔“ (۵-المائدة:۱۱۶) پھر آیت کا باقی حصہ روک لیا ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اﷲ تعالیٰ نے ( ‏‏‏‏ عیسیٰ علیہ السلام ) کو یہ جواب سکھایا : «سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ» ”تو پاک ہے ، یہ تو مجھے زیب ہی نہیں دیتا کہ میں ایسی بات کروں جو میرے لیے حق نہ ہو ۔“ ‏‏‏‏ (۵-المائدة:۱۱۶)
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات / حدیث: 3877