کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: سو افراد کے قاتل کی توبہ
حدیث نمبر: 3869
- " إن عبدا قتل تسعة وتسعين نفسا، ثم عرضت له التوبة، فسأل عن أعلم أهل الأرض ، فدل على رجل (وفي رواية راهب) ، فأتاه، فقال: إني قتلت تسعة وتسعين نفسا، فهل لي من توبة؟؟ قال: بعد قتل تسعة وتسعين نفسا؟! قال: فانتضى سيفه فقتله به، فأكمل به مائة، ثم عرضت له التوبة، فسأل عن أعلم أهل الأرض؟ فدل على رجل [عالم] ، فأتاه فقال: إني قتلت مائة نفس فهل لي من توبة؟ فقال : ومن يحول بينك وبين التوبة؟! اخرج من القرية الخبيثة التي أنت فيها إلى القرية الصالحة قرية كذا وكذا، [فإن بها أناسا يعبدون الله] ، فاعبد ربك [ معهم] فيها، [ولا ترجع إلى أرضك فإنها أرض سوء] ، قال: فخرج إلى القرية الصالحة، فعرض له أجله في [بعض] الطريق، [فناء بصدره نحوها] ، قال: فاختصمت فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب، قال: فقال إبليس: أنا أولى به، إنه لم يعصني ساعة قط! قال: فقالت ملائكة الرحمة: إنه خرج تائبا [مقبلا بقلبه إلى الله، وقالت ملائكة العذاب: إنه لم يعمل خيرا قط]- فبعث الله عز وجل ملكا [في صورة آدمي] فاختصموا إليه - قال: فقال: انظروا أي القريتين كان أقرب إليه فألحقوه بأهلها، [فأوحى الله إلى هذه أن تقربي، وأوحى إلى هذه أن تباعدي] ، [فقاسوه، فوجدوه أدنى إلى الأرض التي أراد [بشبر] ، فقبضته ملائكة الرحمة] [فغفر له] . قال الحسن: لما عرف الموت احتفز بنفسه ( وفي رواية: ناء بصدره) فقرب الله عز وجل منه القرية الصالحة، وباعد منه القرية الخبيثة، فألحقوه بأهل القرية الصالحة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنی ، میرے کانوں نے وہ حدیث سنی اور میرے دل نے اسے یاد کیا ، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک آدمی نے ننانوے افراد قتل کر دیے ، پھر اسے توبہ کا خیال آیا ۔ اس نے روئے زمین کے سب سے بڑے عالم کی بابت لوگوں سے پوچھا ؟ اسے ایک راہب ( ‏‏‏‏پادری ) کا پتہ بتایا گیا ۔ وہ اس کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ وہ ننانوے آدمی قتل کر چکا ہے ، کیا ایسے فرد کے لیے توبہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : کیا ننانوے افراد کے قتل کے بعد ؟ ( ‏‏‏‏ایسے شخص کے لیے کوئی توبہ نہیں ) ۔ اس نے تلوار میان سے نکالی اور اسے قتل کر کے سو کی تعداد پوری کر لی ۔ پھر اسے توبہ کا خیال آیا ، اس نے لوگوں سے اہل زمین کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا ۔ اس کے لیے ایک عالم کی نشاندہی کی گئی ، وہ اس کے پاس گیا اور کہا میں سو افراد قتل کر چکا ہوں ، کیا میرے لیے توبہ ( ‏‏‏‏کی کوئی گنجائش ) ہے ۔ اس نے کہا تیرے اور تیری توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے ؟ لیکن تو اس طرح کر کہ اس خبیث بستی سے نکل کر فلاں فلاں کسی نیک بستی کی طرف چلا جا ۔ کیونکہ وہاں کے لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ، تو بھی ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اپنے علاقے کی طرف مت لوٹنا کیونکہ یہ بری سر زمین ہے ۔ وہ نیک بستی کی طرف چل پڑا ، لیکن راستے میں اسے موت آ گئی ، وہ اپنے سینے کے سہارے سرک کر پہلی زمین سے دور ہو کر ( ‏‏‏‏تھوڑا سا ) دوسری طرف ہو گیا ۔ ( ‏‏‏‏اسے لینے کے لیے ) رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے دونوں آ گئے اور ان کے مابین جھگڑا شروع ہو گیا ۔ ابلیس نے کہا : میں اس کا زیادہ حقدار ہوں ، اس نے کبھی بھی میری نافرمانی نہیں کی تھی ۔ لیکن ملائکہ رحمت نے کہا : یہ تائب ہو کر آیا تھا اور دل کی پوری توجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف آنے والا تھا اور ملائکہ عذاب نے کہا : اس نے کبھی بھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو ایک آدمی کی شکل میں بھیجا ۔ انہوں نے اس کے سامنے یہ جھگڑا پیش کیا ۔ اس نے کہا دیکھو کہ کون سی بستی اس کے قریب ہے ، اسی بستی والوں سے اس کو ملا دیا جائے ۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو ( ‏‏‏‏جہاں سے وہ آ رہا تھا ) حکم دیا کہ تو دور ہو جا اور ارض صالحین ( ‏‏‏‏جس کی طرف وہ جا رہا تھا ) حکم دیا کہ تو قریب ہو جا ۔ جب انہوں نے اس کی پیمائش کی تو جس زمین کی طرف وہ جا رہا تھا ، اسے ( ‏‏‏‏دوسری کی بہ نسبت ) ایک بالشت زیادہ قریب پایا ۔ پس رحمت کے فرشتے اسے لے گئے اور اسے بخش دیا گیا ۔“ حسن راوی کہتے ہیں : جب اسے موت کا علم ہوا تو وہ ( ‏‏‏‏ ‏‏‏‏نیک بستی کی طرف ) سکڑ گیا ، اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے سینے کے سہارے ( ‏‏‏‏نیک بستی کی طرف ) سرک گیا ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اسے قریۂ صالحہ کے قریب کر دیا اور قریۂ خبیثہ سے دور کر دیا ، تو ان فرشتوں نے اسے نیک بستی والے لوگوں میں شامل کر دیا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات / حدیث: 3869