کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: بنو اسرائیل کے تین افراد کی دنیوی مال کے ذریعے آزمائش، دنیوی نعمتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو نہیں بھلا دینا چاہیے
حدیث نمبر: 3862
- (إنّ ثلاثةً في بني إسرائيل: أبرص، وأقرع، وأعمى، فأراد الله أن يبتليهم، فبعث إليهم ملكاً، فأتى الأبرص، فقال: أيّ شيء أحبّ إليك؟ قال: لونٌ حسنٌ، وجلدٌ حسنٌ، ويذهب عني الذي قد قذرني الناس. قال: فمسحه، فذهب عنه قذره، وأعطي لوناً حسناً، وجلداً حسناً، قال: فأي المال أحب إليك، قال: الإبل- أو قال: البقر؛ شك إسحاق؛ إلا أن الأبرص أو الأقرع قال أحدُهما: الإبلُ، وقال الآخرُ: البقرُ-، قال: فأعطي ناقةٌ عُشراءَ، فقال: بارك الله لك فيها! قال: فأتى الأقرع فقال: أي شيء أحبّ إليك؟ قال: شعرٌ حسنٌ، ويذهبُ عئي هذا الذي قذرني الناسُ، قال: فمسحه، فذهب عنه، واُعطي شعراً حسناً، قال: فأي المال أحبّ إليك؟ قال: البقرُ، فأعطي بقرةً حاملاً، فقال: بارك الله لك فيها! قال: فأتى الأعمى، فقال: أي شيء أحبّ إليك؟ قال: أن يردّ الله إليّ بصري، فأبصر به الناس، قال: فمسحه، فردّ الله إليه بصره، قال: فأي المال أحبّ إليك؟ قال: الغنم، فأعطي شاةً والداً، فأنتج هذان، وولد هذا، قال: فكان لهذا واد من الإبل، ولهذا واد من البقر، ولهذا واد من الغنم. قال: ثم إنّه أتى الأبرص في صورته وهيئته، فقال: رجلٌ مسكين، قد انقطعت بي الحبالُ في سفري، فلا بلاغ لي اليوم إلا بالله ثم بك، أسألك- بالذي أعطاك اللون الحسن، والجلد الحسن، والمال- بعيراً أتبلغ عليه في سفري، فقال: الحقوقُ كثيرةٌ، فقال له: كأني أعرفك، ألم تكن أبرص، يقذرك الناس؟! فقيراً فأعطاك الله؟! فقال: إنّما ورثت هذا المال كابراً عن كابر! فقال: إن كنت كاذباً؛ فصيرك الله إلى ما كنت! قال: وأتى الأقرع في صورته، فقال له مثل ما قال لهذا، وردّ عليه مثل ما رد على هذا، فقال: إن كنت كاذباً؛ فصيرك الله إلى ما كنت! قال: وأتى الأعمى في صورته وهيئته، فقال: رجلٌ مسكين، وابن سبيل، انقطعت بي الحبالُ في سفري، فلا بلاغ لي اليوم إلا بالله ثم بك، أسألك- بالذي ردّ عليك بصرك- شاة أتبلغ بها في سفري. فقال: قد كنتُ أعمى، فرد الله إلي بصري، فخذ ما شئت، ودع ما شئت، فوالله! لا أجهدك اليوم شيئاً أخذته لله! فقال: أمسك مالك؛ فإنما ابتليتم، فقد رضي [الله] عنك، وسخط على صاحبيك) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”بنی اسرائیل میں سے تین آدمی تھے ، ایک برص ( سفید داغوں ) کے مرض میں مبتلا تھا ، دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانے کا ارادہ فرمایا ، پس ان کی طرف ایک فرشتہ پہلے برص والے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا ، تجھے کون سی چیز سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ اس نے جواب دیا : اچھا رنگ ، خوبصورت جسم ، نیز یہ بیماری مجھ سے دور ہو جائے ، جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے گھن کھاتے ہیں ۔ فرشتے نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا ، جس سے ( اللہ کے حکم سے ) اس کی گھن والی بیماری دور ہو گئی اور اسے خوبصورت رنگ دے دیا گیا ۔ فرشتے نے اس سے پھر پوچھا : تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے ؟ اس نے جواباً اونٹ یا گائے کہا ۔ ( اس کی بابت اسحاق راوی کو شک ہوا ، لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ برص والے اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ کا ذکر کیا اور ایک نے گائے کا ) ۔ چنانچہ اسے آٹھ دس مہینے کی گابھن اونٹنی دیدی گئی اور فرشتے نے اسے دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تیرے لیے اس میں برکت عطا فرمائے ۔ پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا : تجھے کون سی چیز سب سے زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : اچھے بال ، یہ میرا ( گنجاپن ) ختم ہو جائے ، جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں ۔ فرشتے نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا ، جس سے اس کا گنجاپن دور ہو گیا اور اسے ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) خوبصورت بال عطا کر دیے گئے ۔ فرشتے نے اس سے پوچھا : تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : گائے ۔ چنانچہ اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی اور دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تیرے لیے ان اس میں برکت عطا فرمائے ۔ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا ، اس سے پوچھا ، تجھے کون سی چیز سب سے زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے میری بینائی واپس لوٹا دے ، پس میں لوگوں کو دیکھوں ۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا ، پس اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی بحال کر دی ، فرشتے نے اس سے پوچھا : تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : بکریاں ۔ پس اسے بچہ جننے والی ایک بکری دے دی گئی ۔ پس سابقہ دونوں ( برص والے اور گنجے ) کے ہاں بھی دونوں جانوروں ( اونٹنی اور گائے ) کی نسل خوب بڑھی اور اس نابینا کے ہاں بھی بکری نے بچے دیے ۔ سو ( برص والے کے ہاں ) ایک وادی اونٹوں کی ، گنجے کے ہاں ایک وادی گائیوں کی اور اس اندھے کے ہاں ایک وادی بکریوں کی ہو گئی ۔ اب پھر فرشتہ برص والے کے پاس گیا ، اس کی صورت اور ہیئت میں آیا اور کہا کہ میں مسکین آدمی ہوں ، سفر میں میرے وسائل ختم ہو گئے ہیں ، آج میرے وطن پہنچنے کا کوئی وسیلہ ، اللہ تعالیٰ اور پھر تیرے علاوہ نہیں ، اس لیے میں تجھ سے اس ذات کے نام سے جس نے تجھے اچھا رنگ ، خوبصورت جسم اور مال عطا کیا ہے ، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں ، جس کے ذریعے میں اپنے سفر میں منزل مقصود تک پہنچ جاؤں ۔ اس نے جواب دیا : ( میرے ذمے پہلے ہی ) بہت سے حقوق ہیں ، یہ سن کر فرشتے نے اس سے کہا : گویا کہ میں تجھے پہچانتا ہوں ، کیا تو وہی نہیں کہ جس کے جسم پر سفید داغ تھے ، لوگ تجھ سے گھن کرتے تھے ، تو فقیر تھا ، اللہ تعالیٰ نے تجھے مال سے نواز دیا ؟ اس نے کہا : یہ مال تو مجھے باپ دادا سے ورثے میں ملا ہے ، فرشتے نے کہا : اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے ، جیسا کہ تو تھا ۔ اب فرشتہ گنجے کے پاس اس کی پہلی شکل و صورت میں آیا اور اس سے بھی وہی کہا جو ( برص والے ) کو کہا تھا اور اس گنجے نے بھی وہی جواب دیا جو برص والے نے دیا تھا ، جس پر فرشتے نے اسے بھی بددعا دی ، کہ اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے ، جیسا کہ تو پہلے تھا ۔ فرشتہ ( پھر ) اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ میں مسکین اور مسافر آدمی ہوں ، سفر کے وسائل ختم ہو گئے ہیں ، آج میں نے وطن پہنچنا ، اللہ تعالیٰ کی مدد ، پھر تیری مالی اعانت کے بغیر ممکن نہیں ، اس لیے میں تجھ سے اس ذات کے نام سے ، جس نے تیری بینائی تجھ پر لوٹا دی ، ایک بکری کا سوال کرتا ہوں تاکہ اس کے ذریعے سے میں اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاؤں ۔ اندھے نے کہا : بلاشبہ میں اندھا تھا ، اللہ تعالیٰ نے میری بینائی بحال کر دی ( تیرے سامنے بکریوں کا ریوڑ ہے ، ان میں سے ) جو چاہے لے لے اور جو چاہے چھوڑ دے ، اللہ تعالیٰ کی قسم ! آج میں ، جو تو اللہ کے لیے لے گا ، اس میں تجھ سے کوئی جھگڑا نہیں کروں گا ، یہ سن کر فرشتے نے اسے کہا : اپنا مال اپنے پاس رکھو ، بیشک تمہیں آزمایا گیا ہے ( جس میں تو کامیاب رہا ) پس اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہو گیا ( اور تیرے دونوں ساتھی ناکام رہے ) ان پر تیرا رب ناراض ہو گیا ۔“