حدیث نمبر: 3852
- " إن الله عز وجل خلق آدم، ثم أخذ الخلق من ظهره وقال: هؤلاء إلى الجنة ولا أبالي وهؤلاء إلى النار ولا أبالي، فقال قائل: يا رسول الله فعلى ماذا نعمل؟ قال: على مواقع القدر ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبدالرحمٰن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ اسلام کو پیدا کیا پھر ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد کو نکالا اور فرمایا : یہ جنت کے لیے ہیں اور میں بے پروا ہوں اور یہ جہنم کے لیے ہیں اور میں کوئی پروا نہیں کرتا ۔“ کسی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تقدیر کے مطابق ۔ “
حدیث نمبر: 3853
- " خلق الله آدم حين خلقه فضرب كتفه اليمنى، فأخرج ذرية بيضاء كأنهم الذر، وضرب كتفه اليسرى، فأخرج ذرية سوداء كأنهم الحمم، فقال للذي في يمينه: إلى الجنة ولا أبالي وقال للذي في كتفه اليسرى: إلى النار ولا أبالي ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو اس کے دائیں کندھے پر ضرب لگائی اور وہاں سے سفید رنگ کی اولاد نکالی ، جو چھوٹی چیونٹیوں کی جسامت کی تھی ۔ پھر بائیں کندھے پر ضرب لگائی اور کوئلوں کی طرح سیاہ اولاد نکالی ۔ پھر دائیں طرف والی اولاد کے بارے میں کہا : یہ جنت میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اور بائیں کندھے سے نکلنے والی اولاد کے بارے میں کہا : یہ جہنم میں جائیں گے اور میں بے پرواہ ہوں ۔“