کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: اللہ تعالیٰ کی ایک مٹھی میں جنتی اور ایک مٹھی میں جہنمی
حدیث نمبر: 3844
- " إن الله تبارك وتعالى قبض قبضة بيمينه فقال: هذه لهذه ولا أبالي وقبض قبضة أخرى، يعني: بيده الأخرى، فقال: هذه لهذه ولا أبالي ".
حافظ محفوظ احمد
ابونضرہ کہتے ہیں : ایک صحابی بیمار ہو گئے ، اس کے ساتھی اس کی تیماری داری کرنے کے لیے اس کے پاس گئے ، وہ رونے لگ گیا ۔ اس سے پوچھا گیا : اللہ کے بندے ! کیوں رو رہے ہو ؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے یہ نہیں کہا تھا کہ ”اپنی مونچھیں کاٹ دو اور پھر اسی چیز پر برقرار رہنا ، یہاں تک کہ مجھے آ ملو ۔“ ؟ اس نے کہا : کیوں نہیں ، ( ‏‏‏‏آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی یہ بشارت مجھے دی تھی ) لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ نے دائیں ہاتھ سے ( ‏‏‏‏اپنے بندوں کی ) کی ایک مٹھی بھری اور فرمایا کہ اس مٹھی والے ( ‏‏‏‏جنت ) کے لیے ہیں اور مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے ، پھر دوسرے ہاتھ سے دوسری مٹھی بھری اور فرمایا کہ اس مٹھی والے ( ‏‏‏‏جہنم ) کے لیے ہیں اور میں کسی کی کوئی پروا نہیں کرتا ۔“ ‏‏‏‏ ( ‏‏‏‏ ‏‏‏‏میرے رونے کی وجہ یہ فکر ہے کہ ) میں یہ نہیں جانتا کہ میں کس مٹھی میں ہوں گا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات / حدیث: 3844
حدیث نمبر: 3845
- " إن الله عز وجل قبض قبضة فقال: في الجنة برحمتي، وقبض قبضة فقال: في النار ولا أبالي ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک اللہ تعالیٰ نے ایک مٹھی بھری اور فرمایا : یہ میری رحمت سے جنت میں ہوں گے اور دوسری مٹھی بھری اور فرمایا : یہ جہنم میں ہوں گے اور میں کوئی پروا نہیں کرتا ۔“ ‏‏‏‏
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات / حدیث: 3845