کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: انبیاء کی تعداد، رسول اور نبی میں فرق، آدم و نوح اور نوح و ابراہیم علیہم السلام کا درمیانی فاصلہ
حدیث نمبر: 3830
- (كان بين آدمَ ونوحٍ عشرةُ قرونِ، وبين نوحٍ وإبراهيم عشرةُ قرونٍ)
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ، وہ تعلیم دیے گئے تھے اور ان سے ( ‏‏‏‏اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) کلام بھی کی گئی تھی ۔“ اس نے کہا : ان کے اور نوح علیہ السلام کے مابین کتنا فاصلہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دس صدیاں ( ‏‏‏‏یا دس زمانے ) ۔“ اس نے کہا : نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دس صدیاں ۔“ پھر صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کل کتنے رسول ہو گزرے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تین سو پندرہ ، جم غفیر ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات / حدیث: 3830
حدیث نمبر: 3831
- " كان آدم نبيا مكلما، كان بينه وبين نوح عشرة قرون، وكانت الرسل ثلاثمائة وخمسة عشر ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ، ان سے کلام بھی کی گئی تھی ۔“ اس نے کہا : ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا فاصلہ تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : : ”دس صدیاں ۔“ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کل کتنے رسول تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تین سو پندرہ ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات / حدیث: 3831