حدیث نمبر: 3798
- " لو لم أحتضنه، لحن إلى يوم القيامة. يعني الجذع الذي كان يخطب إليه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک تنے کا سہارا لے کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کا اہتمام کیا تو وہ تنا رونے لگ گیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اس کے ساتھ چمٹ گئے ، پس وہ خاموش ہو گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر میں اس کو گلے نہ لگاتا تو یہ روز قیامت تک روتا رہتا ۔“
حدیث نمبر: 3799
- (إنّ هذا بكى؛ لما فَقَدَ من الذِّكر) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کا سہارا لے کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے ۔ ایک انصاری عورت ، جس کا غلام بڑھئی تھا ، نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرا غلام بڑھئی ہے ، کیا میں اسے یہ حکم دے دوں کہ وہ آپ کے لیے ایک ممبر بنائے ، تاکہ آپ اس پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما سکیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیوں نہیں“ ۔ پس اس نے منبر بنایا ۔ جب جمعہ کا دن آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمانے لگے ، تو اس تنے نے بچے کی طرح رونا شروع کر دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب اس تنے نے ذکر ( یعنی خطبہ کی باتیں ) گم پائیں تو اس نے رونا شروع کر دیا ۔“