حدیث نمبر: 3780
- " من كان الله عز وجل خلقه لواحدة من المنزلتين يهيئه لعملها، وتصديق ذلك في كتاب الله عز وجل: * (ونفس وما سواها. فألهمها فجورها وتقواها) * (¬1) ".
حافظ محفوظ احمد
ابو اسد دیلمی کہتے ہیں : میں ایک صبح کو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس گیا ، انہوں نے مجھے کہا : ابو اسود ! پھر یہ حدیث بیان کی کہ جہینہ یا مزینہ قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! لوگ جو عمل کر رہے ہیں اور مشقت اٹھا رہے ہیں ۔ آیا پہلے ہی ان کا فیصلہ ہو چکا ہے اور تقدیر کا نفوذ ہو چکا ہے یا لوگ اپنے نبی کی لائی ہوئی تعلیمات ، جن کے ذریعے ان پر حجت قائم کر دی گئی ہے ، پر از سر نو عمل کر رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”( ان اعمال کا ) پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے اور تقدیر کا نفوذ ہو چکا ہے ۔“ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! تو پھر لوگ عمل کیوں کر رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے جس فرد کو دو منازل ( یعنی جنت و جہنم ) میں سے جس منزل کے لیے پیدا کیا ، اسے ( اس کے مطابق ) وہی عمل کرنے کی توفیق دے گا ، میری اس حدیث کی تصدیق قرآن میں موجود ہے : ”قسم ہے نفس اور اسے درست بنانے کی ، پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی۔“ ( سورہ شمس : ۷ ۔ ۸ ) ۔“