حدیث نمبر: 3765
- " كيف أنعم وقد التقم صاحب القرن القرن وحنى جبهته وأصغى سمعه ينتظر أن يؤمر أن ينفخ، فينفخ، قال المسلمون: فكيف نقول يا رسول الله؟ قال: قولوا: حسبنا الله ونعم الوكيل توكلنا على الله ربنا، - وربما قال سفيان: على الله توكلنا - ".
حافظ محفوظ احمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں ( دنیوی زندگی میں ) کیسے خوش و خرم رہ سکوں ادھر صور پھونکنے والا فرشتہ اپنے منہ میں صور لے چکا ہے ، اس نے پیشانی جھکا دی ہے ، اپنا کان ( اللہ کے حکم کے انتظار میں ) لگا دیا ہے ۔ اب وہ نفخ کے حکم کا انتظار کر رہا ہے ، ( حکم ہوتے ہوئے صور ) پھونک دے گا ۔ مسلمانوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم ( اس قلق و اضطراب کی اس کیفیت میں ) کیا کہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ کہو : اللہ ہمیں کافی ہے ، وہ بہترین کارساز ہے ، ہم نے اپنے رب اللہ پر توکل کیا ہے ۔“ یہ حدیث سیدنا ابوسعید خدری ، سیدنا عبداللہ بن عباس ، سیدنا زید بن ارقم ، سیدنا انس بن مالک ، سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے مروی ہے ۔