حدیث نمبر: 3757
- " يوشك الأمم أن تداعى عليكم كما تدعى الأكلة إلى قصعتها، فقال قائل: ومن قلة نحن يومئذ؟ قال: بل أنتم يومئذ كثير ولكنكم غثاء كغثاء السيل ولينزعن الله من صدور عدوكم المهابة منكم وليقذفن الله في قلوبكم الوهن، فقال قائل: يا رسول الله وما الوهن؟ قال حب الدنيا وكراهية الموت ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عنقریب امتوں کے لوگ تم پر یوں ٹوٹ پڑیں گے ، جیسے بسیار خور ( کھانے کے ) پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔“ کہنے والے نے کہا : آیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تمہاری بہت زیادہ تعداد ہو گی ، لیکن تم سیلاب کے کوڑا کرکٹ کی طرح ( ہلکے پھلکے اور بے وقعت ) ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں «وهن» ڈال دے گا ۔“ کہنے والے نے کہا : اے اللہ کے رسول ! «وهن» کیا ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دنیا کی محبت اور موت کی کراہیت کو «وهن» کہتے ہیں ۔“