کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: آخر زمانہ میں سخی خلیفہ۔ عراق، شام اور مصر کے وسائل، رزق کا روک لیا جانا
حدیث نمبر: 3754
- (يكون في آخر أمتي خليفةٌ؛ يحثي المال حثياً؛ لا يعدُّه عداً) .
حافظ محفوظ احمد
ابونضرہ کہتے ہیں : ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس تھے ، انہوں نے کہا : قریب ہے کہ اہل عراق کی طرف قفیز اور درہم کی درآمد رک جائے ۔ ہم نے کہا : یہ کیسے ہو گا ؟ انہوں نے کہا : عجم سے ( ایک وقت آئے گا کہ ) وہ روک لیں گے پھر قریب ہے کہ اہل شام کی طرف سے دینار اور مد کی درآمد رک جائے ۔ ہم نے کہا : یہ کیسے ہو گا ؟ انہوں نے کہا : روم سے ( ایک وقت آئے گا کہ ) وہ روک لیں گے ۔ اس کے بعد وہ تھوڑی دیر کے لیے بات کرنے سے رک گئے اور پھر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میری امت کے آخر میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا جو مال کے چلو بھربھر کے ( لوگوں کو ) دے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا ۔“ میں نے ابو نضرہ اور ابوعلاء سے کہا : تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ عمر بن عبدالعزیز ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ۔