کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: قرآن پڑھنے والے لوگ بھی جہنمی؟ گھوڑوں کی سمندروں میں گھسنے کی پیشین گوئی
حدیث نمبر: 3752
- (يظهرُ هذا الدّين حتى يجاوز البحار، وحتى تُخاض بالخيل في سبيل الله، ثُمَّ يأتي أقوامٌ يقرأون القرآن، فإذا قرأوا قالوا: قد قرأنا القرآن، فمن أقرأُ منا؟ من أعلمُ منا؟! ثم التفت إلى أصحابه، فقال: هل ترون في أولئك من خير؟ قا لوا: لا. قال: فأولئك منكم، وأولئك من هذه الأمة، وأولئك هُم وقُودُ النار) . أخرجه ابن المبارك في "الزهد" (152/ 450) قال: أخبرنا موسى بن عُبيدة
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ دین منظر عام پر آئے گا اور سمندروں سے تجاوز کر جائے گا ، حتیٰ کہ اللہ کے راستے میں گھوڑے (سمندر) میں گھس جائیں گے ، پھر ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے اور اس کی تلاوت کر چکنے کے بعد کہیں گے : ہم نے قرآن مجید پڑھ لیا ہے ، ہم سے زیادہ پڑھنے والا کون ہے ؟ ہم سے زیادہ علم والا کون ہے ؟“ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا : تمہارا کیا خیال ہے کہ ان میں کوئی خیر و بھلائی ہو گی ؟ انہوں نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ لوگ تم میں سے ہوں گے ، یہ لوگ اس امت میں سے ہوں گے اور یہ لوگ آگ کا ایندھن بنیں گے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3752