حدیث نمبر: 3741
- " يأتي المقتول متعلقا رأسه بإحدى يديه متلببا قاتله بيده الأخرى، تشخب أوداجه دما، حتى يأتي به العرش، فيقول المقتول لرب العالمين: هذا قتلني. فيقول الله للقاتل: تعست، ويذهب به إلى النار ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے سوال کیا : ابوالعباس ! آیا قاتل توبہ کر سکتا ہے ؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے متعجب ہو کر پوچھا : تم کیا کہہ رہے ہو ؟ اس نے اپنا سوال دوہرایا ۔ انہوں نے پھر پوچھا : تم کیا کہہ رہے ہو ؟ دو تین دفعہ ایسے ہوا ۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اس کی توبہ کیسے قبول ہو گی ؟ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : ”( روز قیامت ) مقتول آئے گا ، ایک ہاتھ سے اپنے سر کو سہارا دے رکھا ہو گا اور دوسرے ہاتھ سے قاتل کا گریبان پکڑا ہوا ہو گا ، مقتول کی رگوں سے خون ابل رہا ہو گا ، وہ اس کو عرش کے پاس لے آئے گا اور ربّ العالمین سے کہے گا : اس نے مجھے قتل کیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ قاتل سے کہے گا : تو تو ہلاک ہو گیا ہے ، پھر اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا ۔“
حدیث نمبر: 3742
- " أبى الله أن يجعل لقاتل المؤمن توبة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے مومن کے قاتل کی توبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔“
حدیث نمبر: 3743
- " لما نزلت هذه الآية التي في * (الفرقان) *: * (والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق) * عجبنا للينها، فلبثنا ستة أشهر، ثم نزلت التي في * (النساء) *: * (ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها وغضب الله عليه ولعنه) * حتى فرغ ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا زید بن ثابت کہتے ہیں : جب یہ والی آیت نازل ہوئی : ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ جان کو قتل کرتے ہیں مگر حق کے ساتھ ۔“ ( سورۃ الفرقان : ۶۸ ) تو ہمیں اس آیت میں دی گئی لچک اور نرمی پر بڑا تعجب ہوا ، چھ مہینے گزر گئے ، پھر یہ والی آیت نازل ہوئی : ”جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کا بدلہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ غضبناک ہوا اور اس پر لعنت کی . . . . آخر تک ۔“ ( سوره نساء : ٩٣ )