حدیث نمبر: 3740
- " عقر دار المؤمنين بالشام ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سلمہ بن نفیل کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! لوگوں نے گھوڑوں کو بےقیمت کر دیا ہے ، اسلحہ ترک کر دیا ہے اور یہ کہنا شروع کر دیا ہے : اب کوئی جہاد نہیں رہا ، اب لڑائی ختم ہو چکی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کے ساتھ متوجہ ہوئے اور فرمایا : ”یہ لوگ خلاف حقیقت بات کر رہے ہیں ۔ اب ، بالکل ابھی قتال شروع ہوا ہے ، میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر لڑتا رہے گا ، اللہ تعالیٰ ان کے لیے لوگوں کے دلوں کو ٹیڑھا کرتا رہے گا اور ان سے اپنے بندوں کو ( مال غنیمت کی صورت میں ) رزق مہیا کرتا رہے گا ، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ آ پہنچے گا ۔ ( یاد رکھو کہ ) روز قیامت تک گھوڑے کی پیشانی میں خیر معلق رہے گی ۔ میری طرف یہ وحی کی جا رہی ہے : میں فوت ہونے والا ہوں ، ٹھہرنے والا نہیں ہوں ، تم لوگ گروہوں کی صورت میں میر ے پیچھے چلو گے اور تم ایک دوسرے کا خون کرو گے ۔ ( یاد رکھنا کہ ) شام مومنوں کے گھروں کی اصل ہے ۔“