کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: بدعت اور خیانت کا وبال
حدیث نمبر: 3714
- (إنِّي لكم فرَطٌ على الحوض، فإيّاي! لا يأتينّ أحدكم فيُذَبَّ عنِّي كما يُذبُّ البعير الضال، فأقول: فيم هذا؟ فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك؟! فأقول: سُحْقاً) .
حافظ محفوظ احمد
زوجہ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان کے غلام عبداللہ بن رافع بیان کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں : میں لوگوں کو حوض کا تذکرہ کرتے ہوئے سنتی رہتی تھی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موضوع پر کوئی حدیث براہ راست نہیں سنی تھی ، ایک دن میری لونڈی میری کنگھی کر رہی تھی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آواز لگاتے سنا : ”لوگو !“ میں نے لونڈی سے کہا : پیچھے ہٹ جاؤ ۔ اس نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بلایا ہے ، نہ کہ عورتوں کو ۔ میں نے کہا : ( ‏‏‏‏آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا ہے اور ) میں بھی ان میں سے ہی ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا ۔ میری اطاعت کرتے رہنا ! کہیں ایسا نہ ہو کہ تم وہاں میرے پاس پہنچو اور تمہیں بھٹکے ہوئے اونٹ کی طرح ( ‏‏‏‏مجھ سے دور ) دھتکار دیا جائے ۔ میں پوچھوں : ایسے کیوں ہو رہا ہے ؟ مجھے جواباً کہا جائے : آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کون کون سی بدعات رائج کر دی تھیں ۔ ( ‏‏‏‏یہ سن کر ) میں کہوں گا : بربادی ہو ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3714
حدیث نمبر: 3715
- " إني ممسك بحجزكم عن النار وتقاحمون فيها تقاحم الفراش والجنادب ويوشك أن أرسل حجزكم، وأنا فرط لكم على الحوض، فتردون علي معا وأشتاتا، يقول جميعا ، فأعرفكم بأسمائكم وبسيماكم كما يعرف الرجل الغريبة من الإبل في إبله، فيذهب بكم ذات الشمال، وأناشد فيكم رب العالمين، فأقول: يا رب أمتي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك، إنهم كانوا يمشون القهقرى بعدك. فلا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل شاة لها ثغاء ينادي: يا محمد، يا محمد! فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت، ولا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل بعيرا له رغاء ينادي: يا محمد، يا محمد! فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت ، ولا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل فرسا له حمحمة ينادي: يا محمد، يا محمد! فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت، ولا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل قشعا من أدم ينادي: يا محمد، يا محمد! فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں تم لوگوں کو آگ سے بچانے کے لیے تمہیں کمروں سے پکڑ رہا ہوں ، لیکن تم پتنگوں اور اچھلی اڑتی ٹڈیوں کی طرح اس میں زبردستی گھسنا چاہتے ہو ، ممکن ہے کہ میں تمہاری کمروں کو چھوڑ دوں ۔ ( ‏‏‏‏یاد رکھو کہ ) میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا ، تم میرے پاس متحد ہو کر اور منتشر ہو کر ( ‏‏‏‏دونوں صورتوں میں ) آؤ گے ، میں تمہیں تمہارے ناموں اور علامتوں سے ایسے پہچان لوں گا جیسے کوئی آدمی اپنے اونٹوں میں گھسنے والے اجنبی اونٹ کو پہچان لیتا ہے ، لیکن تمہیں بائیں طرف دھتکار دیا جائے گا اور میں تمہارے لیے جہانوں کے پالنہار سے اپیل کرتے ہوئے کہوں گا : اے میرے رب ! میری امت ( ‏‏‏‏ ‏‏‏‏کو بچاؤ ) ۔ جواباً کہا جائے گا : تم نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے تمہارے بعد کون کون سی بدعات رائج کر دی تھیں ، تیرے بعد انہوں نے الٹے پاؤں چلنا شروع کر دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ دیکھوں کہ اس نے ممیاتی ہوئی بکری اٹھا رکھی ہو اور یہ آواز دے رہا ہو : اے محمد ! اے محمد ! ( ‏‏‏‏میری معاونت کیجئیے) اور میں کہوں گا : میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ، میں نے تو ( ‏‏‏‏تیرے تک ) پیغام پہنچا دیا تھا ۔ میں کسی کو اس حال میں نہ پہچانوں کہ اس نے بلبلاتا ہو اونٹ اٹھا رکھا ہو اور آواز دے رہا ہو : اے محمد ! اے محمد ! ( ‏‏‏‏میرا سہارا بنو ) ۔ میں کہوں گا : میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا ( ‏‏‏‏کہ ایسا نہ کرنا ) ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کسی نے روز قیامت ہنہناتا ہوا گھوڑا اٹھا رکھا ہو اور آواز دے رہا ہو : اے محمد ! اے محمد ! میں جواباً کہوں : میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۔ میں تم میں سے کسی کو قیامت والے دن اس حالت میں نہ دیکھوں کہ پرانی کھال کا ٹکڑا اٹھا رکھا ہو اور پکار رہا ہو : اے محمد ! اے محمد ! اور میں کہہ دوں : میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ، میں نے تو ( ‏‏‏‏ اللہ کا پیغام ) تیرے تک پہنچا دیا تھا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3715