کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض . . .، بدعتی لوگ حوض سے دور دھتکار دیے جائیں گے
حدیث نمبر: 3703
- (إن لي حوضاً ما بينَ الكعبةِ وبيتِ المقدِسِ، أبيضَ مثلَ اللّبن؛ آنِيَتُةُ عدَدَ النُّجُومِ، وإني لأكثرُ الأنبياءِ تبعاً يومَ القيامةِ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میرے حوض کی وسعت کی مسافت کعبہ سے بیت المقدس کی مسافت جتنی ہے ، اس کا پانی دودھ کی طرح سفید ہے ، اس کے آبخورے ستاروں کی تعداد کے بقدر ہیں اور قیامت والے دن میرے پیروکار سب انبیاء کے امتیوں سے زیادہ ہوں گے ۔“
حدیث نمبر: 3704
- " حوضي ما بين عدن إلى عمان ماؤه أشد بياضا من الثلج وأحلى من العسل وأكثر الناس ورودا عليه فقراء المهاجرين الشعث رءوسا، الدنس ثيابا، الذين لا ينكحون المتنعمات ولا تفتح لهم أبواب السدد، الذين يعطون الحق الذي عليهم ولا يعطون الذي لهم ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میرے حوض ( کی وسعت ) عدن سے عمان تک ہے ، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ، وہاں آنے والوں میں اکثریت مہاجرین کی ہو گی ، جو اب پراگندہ بالوں والے اور میلے کپڑے والے ہیں ، وہ آسودہ حال عورتوں سے شادی نہیں کر سکتے ، بند دروازے ان کے لیے نہیں کھولے جاتے اور وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں ، لیکن ان کے حقوق پورے نہیں کئے جاتے ۔“
حدیث نمبر: 3705
- (تَرِدُ عليَّ أمتي الحوض، وأنا أذود الناس عنه؛ كما يذود الرجل إبل الرجل عن إبله، قالوا: يا نبي الله! أتعرفنا؟ قال: نعم، لكم سيما ليست لأحد غيركم، تردون علي غراً محجلين من آثار الوضوء. وليصدن عني طائفة منكم، فلا يَصِلُون، فأقول: يا رب! هؤلاء من أصحابي؟! فيجيبني ملكٌ فيقول: وهل تدري ما أحدثوا بعدك؟!) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میری امت حوض پر میرے پاس آئے گی ۔ میں کچھ لوگوں کو اس سے یوں دھتکاروں گا ، جیسے کوئی آدمی دوسرے کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے دور دھتکارتا ہے ۔“ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ، تمہاری ایک ایسی علامت ہو گی ، جو دوسروں کی نہیں ہو گی ، تم میرے پاس اس حال میں آؤ گے کہ وضو کے اثر کی وجہ سے تمہاری پیشانی ، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں چمکتے ہوں گے ۔ لیکن تم میں ایک گروہ کو مجھ سے روک لیا جائے گا ، وہ ( مجھ تک ) نہ پہنچ پائیں گے ۔ میں کہوں گا : اے میرے رب ! یہ میرے ساتھی ہیں ؟ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا اور کیا آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) بدعتوں کو رواج دیا تھا ؟ !“