حدیث نمبر: 3654
- (ليتَ شِعْري! متى تَخْرُجُ نارٌ من اليمن من جبل الوِرَاقِ؛ تضيء منها أعناقُ الإبل بُروكاً بِبُصرى كضَوْءِ النهارِ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( سفر سے واپس آ رہے تھے ) ، ہم نے ذوالحلیفہ مقام میں پڑاؤ ڈالا کچھ لوگوں نے مدینہ جانے میں عجلت سے کام لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں رات گزاری اور ہم بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں پوچھا ( کہ وہ کہاں ہیں ) ؟ بتلایا گیا کہ انہوں نے مدینہ کی طرف جانے میں جلدی کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”انہوں نے مدینہ اور عورتوں کی طرف جانے میں جلدی کی ہے ، عنقریب یہ لوگ مدینہ کو چھوڑ جائیں گے ، حالانکہ وہ ان کے لیے بہت بہتر ہو گا ۔“ پھر فرمایا : ”کاش میں جانتا ہوتا کہ جب یمن کے جبل وراق سے آگ نکلے گی ، وہ بصریٰ میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنوں کو ایسے روشن کر دے گی ، جیسے وہ دن کی روشنی میں نظر آتی ہیں ۔“
حدیث نمبر: 3655
- " يتركون المدينة على خير ما كانت لا يغشاها الا العوافي (يريد عوافي السباع والطير) ، وآخر من يحشر راعيان من مزينة يريدان المدينة ينعقان بغنمهما، فيجدانها وحشا حتى إذا بلغا ثنية الوداع خرا على وجوههما ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”لوگ مدینہ کو خیر باد کہہ دیں گے ، حالانکہ وہ ان کے لیے سب سے بہتر ہو گا ، ( درندے اور پرندے جیسے ) روزی کے متلاشی جانور اس کو اپنی آماجگاہ بنا لیں گے ۔ سب سے آخر میں مزینہ قبیلے کے دو چرواہے اپنی بکریوں کو ڈانٹتے للکارتے مدینہ کی طرف آئیں گے ، ( جب پہنچیں گے تو ) اسے اجاڑ اور ویران پائیں گے ، جب وہ ثنئیہ وداع تک پہنچیں گے تو چہروں کے بل گر پڑیں گے ۔“