حدیث نمبر: 3602
- (إنْ يَعشْ هذا الغلامُ؛ فعسَى أنْ لا يدركَه الهَرَمُ حتّى تَقومَ السّاعةُ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : قیامت کب برپا ہو گی ؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس محمد نامی انصاری بچہ موجود تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا : ا ”گر یہ بچہ زندہ رہا تو ممکن ہے کہ بوڑھا ہونے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے ۔“ یہ حدیت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 3603
- (بُعثت والساعة كهاتين- وضمَّ إصبعيه الوسَّطى والتي تلي الإبهام-، وقال: ما مثلي ومثل الساعة إلا كفرسي رهان. ثم قال: ما مثلي ومثل الساعة إلا كمثل رجُلٍ بعثه قومٌ طليعةُ، فلمّا خشي أن يسبق؛ ألاح بثوبه: أتيتم أتيتم، أنا ذاك، أنا ذاك) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب بھیجا گیا ہے ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تمثیل پیش کرتے ہوئے ) شہادت والی اور بڑی انگلی کو آپس میں ملا دیا ، نیز فرمایا : ”میری اور قیامت کی مثال مقابلے میں بھاگنے والے دو گھوڑوں کی طرح ہے ( جو ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں ) ۔“ پھر فرمایا : ”میری اور قیامت کی مثال اس آدمی کی طرح ہے ، جسے لوگوں نے بطور جاسوس آگے بھیج دیا ، اسے اندیشہ ہوا کہ دشمن تو مجھ سے پہلے پہنچ جائے گا تو اس نے کپڑا ہلایا اور کہا : تم دشمنوں کے سامنے آ گئے ، تم دشمنوں کے سامنے آ گئے ، میں یہ ہوں ، میں یہ ہوں ۔“