کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: علامات قیامت
حدیث نمبر: 3565
- " إذا رأيت الأمة ولدت ربتها أو ربها ورأيت أصحاب الشاء يتصاولون بالبنيان ورأيت الحفاة الجياع العالة كانوا رءوس الناس، فذلك من معالم الساعة وأشراطها ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے ، جبریل علیہ السلام آ کر آپ کے سامنے یوں بیٹھے کہ اپنی ہتھیلیاں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیں اور کہا : اے اللہ رسول ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ( ‏‏‏‏روای نے طویل حدیث ذکر کی ، اس میں یہ الفاظ بھی تھے : ) انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سبحان اللہ ! پانچ امور کا تعلق علم غیب سے ہے ، صرف اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے ، ( ‏‏‏‏وہ پانچ چیزیں اس آیت میں مذکور ہیں : ) «إِنَّ اللَّـهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ”‏‏‏‏بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے ، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے ، کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل کیا کچھ کرے گا ، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا ( ‏‏‏‏یاد رکھو کہ ) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے ۔“ (۳۱-لقمان:۴۵) ہاں اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں قیامت سے پہلے والی علامت کے بارے میں آگاہ کر دیتا ہوں ۔“ انہوں نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! مجھے بیان کیجئیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم دیکھو گے کہ لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی ، بکریوں کے چرواہے ( ‏‏‏‏عالیشان ) عمارتوں میں غرور تکبر کریں گے ۔ ننگے پاؤں ، بھوکے اور فقیر افراد لوگوں کے سردار بن جائیں گے ۔ یہ قیامت کی علامتیں اور شرطیں ہیں ۔ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول بکریوں کے چرواہوں ، ننگے پاؤں ، بھوکوں اور فقیروں سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عرب لوگ ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3565
حدیث نمبر: 3566
- " إن بين يدي الساعة تسليم الخاصة وفشو التجارة، حتى تعين المرأة زوجها على التجارة وقطع الأرحام وشهادة الزور وكتمان شهادة الحق وظهور القلم ".
حافظ محفوظ احمد
طارق بن شہاب کہتے ہیں : ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک آدمی آیا اور کہا : اقامت کہی جا چکی ہے ، وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے ، جب ہم مسجد میں داخل ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصے میں رکوع کی حالت میں ہیں ۔ انہوں نے ”‏‏‏‏اللہ أکبر“ ‏‏‏‏ کہا اور ( ‏‏‏‏صف تک پہنچنے سے پہلے ہی ) رکوع کیا ، ہم نے بھی رکوع کیا ، پھر ہم رکوع کی حالت میں چلے ( ‏‏‏‏اور صف میں کھڑے ہو گئے ) اور جیسے انہوں نے کیا ہم کرتے رہے ۔ ‏‏‏‏ ایک آدمی جلدی میں گزرا اور کہا : ابو عبدالرحمٰن ! السلام علیکم ۔ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ۔ جب ہم نے نماز پڑھ لی اور واپس آ گئے ، وہ اپنے اہل کے پاس چلے گئے ۔ ہم بیٹھ گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے : آیا تم لوگوں نے سنا ہے کہ انہوں نے ا‏‏‏‏س آدمی کو جواب دیتے ہوئے کہا : اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسولوں نے ( ‏‏‏‏اس کا پیغام ) پہنچا دیا ؟ تم میں سے کون ہے جو ان سے ان کے کئے کے بارے میں سوال کرے ؟ طارق نے کہا میں سوال کروں گا ۔ جب وہ باہر آئے تو انہوں نے سوال کیا ۔ جواباً انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت سے پہلے مخصوص لوگوں کو سلام کہا جائے گا اور تجارت عام ہو جائے گی ، حتیٰ کہ بیوی تجارتی امور میں اپنے خاوند کی مدد کرے گی ، نیز قطع رحمی ، جھوٹی گواہی ، سچی شہادت کو چھپانا اور لکھائی پڑھائی ( ‏‏‏‏بھی عام ہو جائے گی ) ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3566
حدیث نمبر: 3567
- " والذي نفسي بيده لا تقوم الساعة حتى يكلم السباع الإنس ويكلم الرجل عذبة سوطه وشراك نعله ويخبره فخذه بما حدث أهله بعده ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک بھیڑئیے نے بکری پر حملہ اور اس کو پکڑ لیا ۔ چرواہا نے اس کا تعاقب کیا اور اس سے بکری چھین لی ۔ بھیڑیا پچھلی ٹانگوں کو زمین پر پھیلا کر اور اگلی ٹانگوں کو کھڑا کر کے اپنی دم پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا : کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا ؟ اللہ نے مجھے جو رزق عطا کیا تھا ، تو نے وہ چھین لیا ہے ؟ چرواہا کہنے لگا : ہائے تعجب ! بھیڑیا ہے ، اپنی دم پر بیٹھا ہے اور انسانوں کی طرح گفتگو کر رہا ہے ۔ اتنے میں بھیڑیا پھر بولا اور کہنے لگا : کیا میں تجھے اس سے تعجب انگیز بات نہ بتلاؤں ؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یثرب ( ‏‏‏‏مدینہ ) میں آ چکے ہیں اور ماضی کی خبریں بتاتے ہیں ۔ ( ‏‏‏‏یہ سن کر ) چرواہا اپنی بکریوں کو ہانکتے ہانکتے مدینہ میں داخل ہوا ، بکریوں کو کسی گوشے میں جمع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورتحال سے آگاہ کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور لوگوں کو جمع کرنے کے لیے «الصلاة جامعة» کی صدا بلند کی گئی ، ( ‏‏‏‏لوگ جمع ہو گئے اور ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے اور چرواہے کو سارا واقعہ بیان کرنے کا حکم فرمایا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا : ”اس نے سچ کہا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! قیامت کے برپا ہونے سے پہلے درندے لوگوں سے باتیں کریں گے ، آدمی اپنی لاٹھی کی نوک اور جوتے کے تسمے سے ہم کلام ہو گا اور اس کی ران اسے بتلائے گی کی اس کی بیوی نے اس کے بعد کیا کچھ کیا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3567
حدیث نمبر: 3568
- (لا تقومُ الساعةُ حتى تزولَ الجبالُ عن أماكِنها؛ وترونَ الأمورَ العِظامَ التي لم تكونوا ترونَها) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک پہاڑ اپنی جگہ سے زائل نہیں ہو جائیں گے اور تم ایسے بڑے بڑے امور نہ دیکھ لو گے جو تم پہلے نہیں دیکھا کرتے تھے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3568
حدیث نمبر: 3569
- " إن بين يدي الساعة ثلاثين دجالا كذابا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک کوفی آدمی بیٹھا ہوا تھا ، اس نے مختار سے احادیث بیان کرنا شروع کر دیں ۔ سیدنا عبداللہ نے کہا : اگر بات ایسے ہی ہے جیسے تو کہہ رہا ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”قیامت سے پہلے تیس انتہائی جھوٹے اور کذاب افراد ہوں گے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3569
حدیث نمبر: 3570
- " لا تقوم الساعة حتى يبني الناس بيوتا يوشونها وشي المراحيل ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک لوگ اپنے گھروں کو اسٹیج کی طرح مزین نہیں کریں گے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3570
حدیث نمبر: 3571
- " لا تقوم الساعة حتى يتسافدوا في الطريق تسافد الحمير، قلت: إن ذلك لكائن؟ قال: نعم ليكونن ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب ایسے نہیں ہو گا کہ لوگ گدھوں کی طرح راستوں میں باہم جفتی کریں گے ۔“ ‏‏‏‏ میں نے کہا : کیا ایسے بھی ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏ ہاں ، ضرور ہو گا ۔ ‏‏‏‏“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3571
حدیث نمبر: 3572
- " لا يذهب الليل والنهار حتى تعبد اللات والعزى , فقالت عائشة: يا رسول الله إن كنت لأظن حين أنزل الله * (هو الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشركون) * أن ذلك تاما , قال: إنه سيكون من ذلك ما شاء الله ". الحديث. " لا يذهب الليل والنهار حتى تعبد اللات والعزى , فقالت عائشة: يا رسول الله إن كنت لأظن حين أنزل الله * (هو الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشركون) * أن ذلك تاما , قال: إنه سيكون من ذلك ما شاء الله ". الحديث.
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس وقت تک شب و روز کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا ، جب تک لات و عزیٰ کی عبادت نہیں کی جائے گی ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ» (۹-التوبة: ٣٣) ”اسی نے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے دوسرے تمام مذہبوں پر غالب کر دے ، اگرچہ مشرک برا مانیں ۔“ تو مجھے گمان ہوا کہ یہ دین اب مکمل رہے گا ( ‏‏‏‏اور کوئی خرابی پیدا نہیں ہو گی ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تک اللہ چاہے گا ، دین مکمل رہے گا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3572
حدیث نمبر: 3573
- " لا يذهب الليل والنهار، حتى يملك رجل من الموالي يقال له: جهجاه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”شب و روز کا سلسلہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا ، جب تک جہجاہ نامی غلام بادشاہ نہیں بنے گا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3573
حدیث نمبر: 3574
- (بين يدي الساعة، تقاتلون قوماً نعالهم الشعر؛ وهو هذا البارز (¬1) - وقال سفيان مرة: وهم أهل البازر (¬2) -) .
حافظ محفوظ احمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت سے قبل تم ایسے لوگوں سے قتال کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور یہی لوگ ہیں مسلمانوں سے لڑنے والے ۔“ یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ ، سیدنا عمرو بن تغلب اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3574
حدیث نمبر: 3575
- " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما صغار الأعين عراض الوجوه كأن أعينهم حدق الجراد، كأن وجوههم المجان المطرقة، ينتعلون الشعر ويتخذون الدرق، حتى يربطوا خيولهم بالنخل ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک تم چھوٹی آنکھوں اور چوڑے چہروں والوں سے قتال نہ کر لو گے ، گویا کہ ان کی آنکھیں مکڑی کی سیاہی کی طرح ہوں گی اور ان کے چہرے گویا کہ تہ بر تہ چڑھائی ہوئی ڈھالیں ہیں ، وہ بالوں کے جوتے پہنیں گے ، چمڑے کی ڈھالیں استعمال کریں گے اور اپنے گھوڑوں کو کھجوروں کے ساتھ باندھیں گے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3575
حدیث نمبر: 3576
- " لا تقوم الساعة حتى لا يحج البيت ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی ، جب تک بیت اللہ کا حج چھوڑ نہ دیا جائے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3576
حدیث نمبر: 3577
- (لا تقومُ السّاعةُ؛ حتّى يقتل الرجلُ جارَه وأخاه وأباه) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک آدمی اپنے پڑوسی ، اپنے بھائی اور اپنے باپ کو قتل نہیں کرے گا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3577
حدیث نمبر: 3578
- " لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل بقبر الرجل، فيقول: يا ليتني مكانه ما به حب لقاء الله عز وجل ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک ایسا نہ ہو کہ آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے کے شوق کی بناء پر کہے گا : کاش میں اس کی جگہ پر ہوتا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3578
حدیث نمبر: 3579
- " لا تقوم الساعة حتى يمطر الناس مطرا عاما، ولا تنبت الأرض شيئا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی ، جب تک ایسے نہیں ہو گا کہ عام بارش برسے گی لیکن زمین کوئی ( ‏‏‏‏کھیتی ) نہیں اگائے گی ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3579
حدیث نمبر: 3580
- (لا تقومُ الساعةُ حتى يُمطَرَ الناسُ مطراً، لا تُكِنُّ منه بيوتُ المدرِ، ولا تكنُّ منه إلاّ بيوتُ الشَّعرِ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک ایسے نہیں ہو گا کہ بارش برسے گی اور کوئی گارے والا گھر نہیں بچ سکے گا اور اس سے نہیں بچے گا مگر بالوں والا گھر ۔ ‏‏‏‏“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3580
حدیث نمبر: 3581
- " من اقتراب الساعة انتفاخ الأهلة، وأن يرى الهلال لليلة، فيقال: هو ابن ليلتين ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت کے قریب ( ‏‏‏‏ہونے کی علامت یہ بھی ہے کہ ) چاند بڑا ہو جائے گا ، جب ایک رات کا چاند نظر آئے گا تو کہا جائے گا کہ یہ تو دو راتوں کا ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3581
حدیث نمبر: 3582
- " لا تقوم الساعة حتى تظهر الفتن ويكثر الكذب وتتقارب الأسواق ويتقارب الزمان ويكثر الهرج. قيل: وما الهرج؟ قال: القتل ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت اس وقت قائم ہو گی جب فتنے ظاہر ہوں گے ، جھوٹ عام ہو جائیں گے ، وقت جلدی گزرے گا اور «هرج» زیادہ ہو گا ۔“ کہا گیا : «هرج» کے کیا معانی ہیں ؟ فرمایا : ”‏‏‏‏قتل ۔ ‏‏‏“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3582
حدیث نمبر: 3583
- " لا تقوم الساعة حتى تعود أرض العرب مروجا وأنهارا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی جب تک عربوں کی سرزمین سبزہ زاروں اور نہروں کی صورت اختیار نہیں کر لے گی ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3583
حدیث نمبر: 3584
- (إن بين يدي السّاعة لأياماً ينزلُ فيها الجهلُ، ويرفعُ فيها العلمُ، ويكثرُ فيها الهرجُ. [قال أبوموسى:] الهرج: القتل [بلسان الحبشة] ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت سے قبل ایسے ایام بھی ہوں گے کہ ان میں جہالت عام ہو جائے گی ، علم کا فقدان ہو جائے گا اور بکثرت قتل ہوں گے ۔ ”‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ کہتے ہیں : ‏‏‏‏ «هرج» ‏‏‏‏ حبشی زبان کا لفظ ہے ، اس کے معانی ”‏‏‏‏قتل‏‏‏‏“ کے ہیں ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3584
حدیث نمبر: 3585
- " إن بين يدي الساعة الهرج، قالوا: وما الهرج؟ قال: القتل، إنه ليس بقتلكم المشركين، ولكن قتل بعضكم بعضا (حتى يقتل الرجل جاره ويقتل أخاه ويقتل عمه ويقتل ابن عمه) قالوا: ومعنا عقولنا يومئذ؟ قال: إنه لتنزع عقول أهل ذلك الزمان، ويخلف له هباء من الناس، يحسب أكثرهم أنهم على شيء وليسوا على شيء ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت سے پہلے «هرج» ہو گا ۔“ کسی نے پوچھا : «هرج» کا کیا معنی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس کا معنی قتل ہے ، ( ‏‏‏‏ذہن نشین کر لو کہ ) اس سے مراد تمہارا مشرکوں کو قتل کرنا نہیں ہے ، بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا ہے ، ( ‏‏‏‏اور بات یہاں تک جا پہنچے گی کہ ) آدمی اپنے پڑوسی کو ، بھائی کو ، چچا کو اور چچا زاد کو قتل کر ڈالے گا ۔“ صحابہ نے کہا : کیا اس وقت ہم میں عقل باقی ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ا‏‏‏‏س زمانے والوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی وہ بیوقوف ہوں گے ، ان کی اکثریت اپنے آپ کو بزعم خود کسی حقیقت پر خیال کرے گی ، لیکن وہ کسی حقیقت پر نہیں ہوں گے ۔“ ‏‏‏‏ ابوموسیٰ نے کہا اس ذ ات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ایسے ایام ہم کو پا لیں تو ان سے راہ فرار کا ایک ہی طریقہ ہو گا کہ جیسے ہم داخل ہوئے ایسے ہی وہاں سے نکل آئیں ، نہ کسی کا خون بہائیں اور نہ کسی کا مال چھینیں ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3585
حدیث نمبر: 3586
- " من اقتراب (وفي رواية: أشراط) الساعة أن ترفع الأشرار وتوضع الأخيار ويفتح القول ويخزن العمل ويقرأ بالقوم المثناة، ليس فيهم أحد ينكرها. قيل: وما المثناة؟ قال: ما استكتب (¬1) سوى كتاب الله عز وجل ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏قیامت کے قریب ہونے کی علامت یہ ہے کہ بدترین لوگوں کو اعلیٰ مناصب دیئے جائیں گے ، شریف لوگوں کو ذلیل سمجھا جائے گا ، لوگ بڑی بڑی باتیں ( ‏‏‏‏یعنی بڑکیں ) ماریں گے ، عمل محدود ہو جائے گا اور لوگوں میں «مثناة» ‏‏‏‏ عام ہو گی ، کوئی بھی اس کا انکار نہیں کر سکے گا ۔“ کہا گیا کہ «مثناة» سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : ”‏‏‏‏جو چیز قرآنی ( ‏‏‏‏علوم ) کے علاوہ لکھی جائے ۔ ‏‏‏‏“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3586
حدیث نمبر: 3587
- " سيأتي على الناس سنوات خداعات يصدق فيها الكاذب ويكذب فيها الصادق ويؤتمن فيها الخائن ويخون فيها الأمين وينطق فيها الرويبضة. قيل: وما الرويبضة؟ قال: الرجل التافه يتكلم في أمر العامة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”لوگوں پر عنقریب فریبی و مکاری والا زمانہ آئے گا ، اس میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور خائن کو امین اور امانتدار کو خائن قرار دیا جائے گا اور «رويبضه» قسم کے لوگ ( ‏‏‏‏ ‏‏‏‏عوام الناس کے امور سے متعلقہ ) گفتگو کریں گے ۔“ پوچھا گیا کہ «رويبضه» سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”معمولی اور کم عقل لوگ جو عوام الناس کے امور پر بحث و مباحثہ کریں گے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3587
حدیث نمبر: 3588
- " إن من أشراط الساعة إذا كانت التحية على المعرفة. وفي رواية: أن يسلم الرجل على الرجل لا يسلم عليه إلا للمعرفة ".
حافظ محفوظ احمد
اسود بن یزید کہتے ہیں : مسجد میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی ، ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی طرف چل پڑے ، لوگ رکوع کی حالت میں تھے ، سیدنا عبداللہ نے ( ‏‏‏‏صف تک پہنچنے سے قبل ہی ) رکوع کر لیا اور ہم بھی رکوع کے لیے جھک گئے اور رکوع کی حالت میں چل کر ( ‏‏‏‏صف میں کھڑے ہو گئے ) ۔ ایک آدمی سیدنا عبداللہ کے سامنے سے گزرا ، اس نے کہا : ابو عبدالرحمٰن ! السلام علیکم ۔ سیدنا عبداللہ نے رکوع کی حالت میں ہی کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو بعض افراد نے سوال کیا : جب ا‏‏‏‏س آدمی نے آپ پر سلام کہا تو آپ نے یہ کیوں کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ؟ انہوں نے جواباََ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”یہ چیز بھی علامات قیامت میں سے ہے کہ سلام معرفت کی بنا پر ہو گا ۔“ اور ایک روایت میں ہے : ”ایک آدمی دوسرے کو سلام تو کہے گا ، لیکن معرفت کی بنا پر کہے گا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3588
حدیث نمبر: 3589
- " إن من أشراط الساعة أن يفيض المال ويكثر الجهل وتظهر الفتن وتفشو التجارة [ويظهر العلم] ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ چیز علامات قیامت میں سے ہے کہ مال پھیل جائے گا ، جہالت عام ہو جائے گی ، فتنے ابھر پڑیں گے ، تجارت عام ہو جائے گی اور علم ( ‏‏‏‏یعنی پڑھائی لکھائی ) عام ہو گی ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3589
حدیث نمبر: 3590
- " إن من أشراط الساعة أن يلتمس العلم عند الأصاغر ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوامیہ جمحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏یہ چیز علامات قیامت میں سے ہے کہ حقیر و ذلیل لوگوں کے پاس علم تلاش کیا جائے گا ۔ ‏‏‏‏“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3590
حدیث نمبر: 3591
- " إن من أشراط الساعة أن يمر الرجل في المسجد لا يصلي فيه ركعتين ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏یہ چیز بھی علامات قیامت میں سے ہے کہ آدمی دو رکعت نماز پڑھے بغیر مسجد سے گزر جائے گا ۔“ ‏‏‏‏
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3591
حدیث نمبر: 3592
- " إن من أشراط الساعة الفحش والتفحش وقطيعة الأرحام وائتمان الخائن - أحسبه قال: وتخوين الأمين ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بدزبانی ، فحش گوئی ، قطع رحمی ، خائن کو امین اور امانتدار کو خائن سمجھنا علامات قیامت میں سے ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3592
حدیث نمبر: 3593
- " إذا سمعتم بجيش قد خسف به قريبا، فقد أظلت الساعة ".
حافظ محفوظ احمد
قعقاع بن ابوحدرد اسلمی کی بیوی بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ”‏‏‏‏ لوگو ! جب تم قریب ہی کسی آدمی کے دھنسنے کے بارے میں سنو تو ( ‏‏‏‏اس کا مطلب یہ ہو گا کہ گویا ) قیامت سایہ فگن ہو چکی ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3593
حدیث نمبر: 3594
- " بين يدي الساعة مسخ وخسف وقذف ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت کے قبل ( ‏‏‏‏لوگوں کی ) شکلیں بگڑیں گی ، انہیں دھنسایا جائے گا اور ان پر سنگ باری کی جائے گی ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3594
حدیث نمبر: 3595
- (ها هنا أَحدٌ من بني فُلانٍ؟ إن صاحبَكم محبُوسٌ ببابِ الجنّةِ بدَينٍ عليه) - (بينَ يدَيِ السّاعةِ يظهرُ الرِّبا، والزِّنى، والخمرُ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏قیامت سے پہلے سود ، زنا اور شراب عام ہو جائے گا ۔“ ‏‏‏‏
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3595
حدیث نمبر: 3596
- " تكون بين يدي الساعة فتن كقطع الليل المظلم يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا، يبيع أقوام دينهم بعرض الدنيا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے نمودار ہوں گے ، آدمی بوقت صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر اور بوقت شام مومن ہو گا اور صبح کو کافر ، لوگ اپنے دین کو دنیوی سازو سامان کے عوض فروخت کر دیں گے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3596
حدیث نمبر: 3597
- " ست من أشراط الساعة: موتى وفتح بيت المقدس وموت يأخذ في الناس كقعاص الغنم وفتنة يدخل حرها بيت كل مسلم وأن يعطى الرجل ألف دينار فيتسخطها وأن تغدر الروم فيسيرون في ثمانين بندا تحت كل بند اثنا عشر ألفا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”علامات قیامت چھ ہیں : میرا فوت ہونا ، بیت المقدس کا فتح ہونا ، بکری کے سینے کی بیماری کی طرح موت کا لوگوں کو ڈبوچنا ، ہر مسلمان کے گھر کو متاثر کرنے والے فتنے کا ابھرنا ، آدمی کا ہزار دینار کو خاطر میں نہ لانا ( ‏‏‏‏یعنی کم سجھنا ) اور روم کا غداری کرنا ، وہ اسی جھنڈوں کے نیچے چلیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3597
حدیث نمبر: 3598
- " * (علمها عند ربي لا يجليها لوقتها إلا هو) * ولكن أخبركم بمشاريطها، وما يكون بين يديها: إن بين يديها فتنة وهرجا. قالوا: يا رسول الله! الفتنة قد عرفناها فالهرج ما هو؟ قال: بلسان الحبشة: القتل، ويلقى بين الناس التناكر فلا يكاد أحد أن يعرف أحدا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں سوال کیا گیا ۔ آپ نے جواباً یہ آیت پڑھی : ” اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے ، اس کے وقت پر اس کو سوائے اللہ کے کوئی اور ظاہر نہ کرے گا ۔“ ( ‏‏‏‏سورۂ اعراف : ۱۸۷ ) پھر فرمایا : ”البتہ میں تمہارے لیے اس کی علامتوں اور اس سے پہلے امور کی نشاندہی کر دیتا ہوں ۔ اس سے پہلے فتنہ اور ہرج ہو گا ۔“ ‏‏‏‏صحابہ نے کہا : ہمیں فتنے کے مفہوم کا تو علم ہے ، ہرج سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏یہ حبشی زبان کا لفظ ہے ، اس کے معنی ”‏‏‏‏قتل“ ‏‏‏‏کے ہیں ، اور ( ‏‏‏‏قیامت سے پہلے ) لوگوں میں اجنبیت پائی جائے گی ، کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3598