کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: حبشی کعبہ کو تباہ و برباد کر دیں گے، اگر حرم امن والا ہے تو اس میں لڑائیاں کیوں ہوئیں
حدیث نمبر: 3552
- " اتركوا الحبشة ما تركوكم، فإنه لا يستخرج كنز الكعبة إلا ذو السويقتين من الحبشة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”حبشیوں کو اس وقت تک نہ چھیڑو ، جب تک وہ تمہیں نہ چھیڑیں ، کیونکہ کعبہ کے خزانے کو لوٹنے والا حبشہ کا چھوٹی پنڈلیوں والا آدمی ہو گا ۔“
حدیث نمبر: 3553
- " يبايع لرجل بين الركن والمقام، ولن يستحل البيت إلا أهله، فإذا استحلوه فلا تسأل عن هلكة العرب، ثم تأتي الحبشة فيخربونه خرابا لا يعمر بعده أبدا، وهم الذين يستخرجون كنزه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک آدمی کی حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی ۔ بیت اللہ کی حرمتوں کو پامال کرنے والے اہل بیت اللہ ہی ہوں گے ۔ جب وہ ایسا کریں گے تو پھر عربوں کی ہلاکت و بردبادی محتاج بیان نہ رہے گی ، پھر حبشی لوگ کعبہ کو ویران کر دیں اور اس کے بعد اسے آباد نہیں کیا جائے ، یہی لوگ اس کے خزانے نکال لیں گے ۔“
حدیث نمبر: 3554
- " يبايع لرجل ما بين الركن والمقام ولن يستحل البيت إلا أهله، فإذا استحلوه فلا يسأل عن هلكة العرب، ثم تأتي الحبشة فيخربونه خرابا لا يعمر بعده أبدا وهم الذين يستخرجون كنزه ".
حافظ محفوظ احمد
سعید بن سمعان کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو قادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک آدمی کی حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمتوں کو پامال کرنے والے اہل بیت اللہ ہی ہوں گے ۔ جب وہ بیت اللہ کی حرمتوں کو پامال کریں گے ، تو پھر عربوں کی ہلاکت و بربادی عروج پر ہو گی ، پھر حبشی آ کر اسے ویران کر دیں گے ، پھر بیت اللہ کو آباد نہیں کیا جائے گا ، یہی لوگ کعبہ کے خزانے نکالیں گے ۔“