کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے، مشاجرات صحابہ کے بارے میں متاخرین کو کیا کہنا چاہیے؟
حدیث نمبر: 3539
- " ما خير عمار بين أمرين إلا اختار أرشدهما ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب بھی عمار کو دو امور میں سے ایک کو انتخاب کرنے کا اختیار دیا گیا تو انہوں نے انتہائی ہدایت والے معاملے کو اختیار کیا ۔“
حدیث نمبر: 3540
- (أبو اليقظان على الفطرة، لا يدَعُها حتى يموت، أو يمسَّهُ الهرم) .
حافظ محفوظ احمد
بلال بن یحییٰ کہتے ہیں جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا : اے ابوعبداللہ ! عثمان ( رضی اللہ عنہ ) کو تو شہید کر دیا گیا ہے اور لوگ اختلاف میں پڑ چکے ہیں ، ایسے میں آپ کیا کہیں گے ؟ انہوں نے کہا : مجھے سہارا دو ۔ انہوں نے ان کو ایک آدمی کے سینے کا سہارا دیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : ”ابوالیقظان فطرت ( اسلام ) پر ہے اور اس کو مرنے تک یا انتہائی بوڑھا ہونے تک نہیں چھوڑے گا ۔“
حدیث نمبر: 3541
- " أبشر عمار، تقتلك الفئة الباغية ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عمار ! خوش ہو جا ، تجھے باغی گروپ قتل کرے گا ۔“
حدیث نمبر: 3542
- " لتقاتلنه وأنت ظالم له. يعني الزبير وعليا رضي الله عنهما ".
حافظ محفوظ احمد
ابوحرب بن ابو اسود کہتے ہیں : میں سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر صفوں کو چیرتے ہوئے واپس جا رہے تھے ، ان کا بیٹا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آیا اور پوچھا : آپ کو کیا ہو گیا ؟ انہوں نے کہا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے ایسی حدیث بیان کی جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تو اس سے ضرور لڑے گا اور تو اس کے حق میں ظالم ہو گا ۔“ سو میں اس سے قتال نہیں کرتا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ لڑنے کے لیے تھوڑے آئے ہیں ؟ آپ تو لوگوں کے مابین صلح کروانے کے لیے آئے ہیں ، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے اس معاملے کا تصفیہ کر دے ۔ انہوں نے کہا : میں نے تو قتال نہ کرنے کی قسم اٹھا لی ہے ۔ سیدنا عبداللہ نے کہا : ( تو بطور کفارہ ) جرجس نامی غلام کو آزاد کر دو اور لوگوں کے درمیان صلح کروانے تک یہیں ٹھہرے رہو ۔ سو انہوں نے اپنے غلام جرجس کو آزاد کر دیا اور وہیں ٹھہر گئے ، لیکن جب لوگوں کا معاملہ مختلف فیہ ہو گیا ( اور صلح نہ ہو سکی ) تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر چلے گئے ۔
حدیث نمبر: 3543
- " أسلم الناس وآمن عمرو بن العاص ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”لوگوں میں عمرو بن العاص زیادہ سلامتی والا اور امن والا ہے ۔“