کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: سب سے بڑے دو بدبخت
حدیث نمبر: 3537
- " يا أبا تراب! ألا أحدثكما بأشقى الناس رجلين؟ قلنا: بلى يا رسول الله! قال: أحيمر ثمود الذي عقر الناقة، والذي يضربك على هذه (يعني قرن علي) حتى تبتل هذه من الدم - يعني لحيته ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ ذی العشیرہ میں رفیق تھے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے اور قیام کیا تو ہم نے بنو مدلج قبیلے کے کچھ لوگوں کو دیکھاکہ وہ کھجوروں میں اپنے ایک چشمے میں کام کر رہے تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا : ابوالیقظان ! کیا خیال ے اگر ہم ان کے پاس چلے جائیں اور دیکھیں کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں ؟ سو ان کے پاس چلے گئے اور کچھ دیر تک ان کا کام دیکھتے رہے ، پھر ہم پر نیند غالب آ گئی ۔ میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں چلے گئے اور مٹی میں لیٹ کر سو گئے ۔ اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاؤں کے ساتھ حرکت دے کر جگایا اور ہم مٹی میں غبار آلود ہو چکے تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر مٹی دیکھی تو فرمایا : ”ایے ابوتراب ! ( ‏‏‏‏ ‏‏‏‏یعنی مٹی والے )“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا میں تمہارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں ؟“ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”احیمر ثمودی ، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو ( ‏‏‏‏اے علی ! ) تیرے سر پر مارے گا ، حتیٰ کہ تیری ( ‏‏‏‏داڑھی ) خون سے بھیگ جائے گی ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3537
حدیث نمبر: 3538
- " أشقى الأولين عاقر الناقة وأشقى الآخرين الذي يطعنك يا علي. وأشار إلى حيث يطعن ".
حافظ محفوظ احمد
عبداللہ بن انس مرسلاً بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پہلے لوگوں میں سب سے بڑا بدبخت وہ تھا جس نے ( ‏‏‏‏سیدنا صالح کے معجزہ ) کی اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دی تھیں اور اے علی ! پچھلوں میں بدبخت ترین وہ ہو گا جو تجھ پر نیزے کا وار کرے گا ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیزے والی جگہ کی طرف اشارہ بھی کیا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3538