حدیث نمبر: 3507
- (إنّ إبراهيمَ حرَّم مكةَ، ودعا لها، وحرَّمْتُ المدينةَ، كما حرّمَ إبراهيمُ مكةَ، ودعوتُ لها في مُدِّها وصاعِها، مثلَ ما دعا إبراهيمُ عليه السلام لمكةَ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک ابراھیم علیہ السلام نے مکہ ( مکرمہ ) کو حرمت والا قرار دیا اور اس کے لیے ( برکت کی ) دعا کی اور میں ابراہیم علیہ السلام کی طرح مدینہ کو حرمت والا قرار دیتا ہوں اور میں اس کے ( ماپ کے پیمانے ) مدّ اور صاع ( کے بابرکت ہونے ) کی دعا کرتا ہوں ، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے کی تھی ۔ ”
حدیث نمبر: 3508
- (حمَى رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - كل ناحيةٍ من المدينة برِيداً برِيد اً) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو اس کی چہار اطراف سے ایک ایک برید تک اس بات سے ممنوع قرار دیا کہ وہاں کے درختوں کے پتے ( ڈنڈے وغیرہ کے ذریعے ) جھاڑے جائیں یا انہیں کاٹا جائے ، ہاں اونٹوں کو ہانکنے کے لیے ( کوئی چھڑی وغیرہ ) کاٹھی جا سکتی ہے ۔“
حدیث نمبر: 3509
- (إنها حرمٌ آمنٌ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ ( منورہ ) کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ”یہ امن والا حرم ہے ۔“
حدیث نمبر: 3510
- " لا يحل لأحد يحمل فيها السلاح لقتال. يعني المدينة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ”کسی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس ( مدینہ ) میں لڑنے کے لیے اسلحہ اٹھائے ۔“