کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: سیدنا سالم رضی اللہ عنہ قاری قرآن
حدیث نمبر: 3445
- (هذا سالم مولى أبي حذيفة، الحمد لله الذي جعل في أمتي مثل هذا) .
حافظ محفوظ احمد
زوجہ رسول عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے عہد رسول میں عشاء کے بعد گھر پہنچنے میں تاخیر ہو گئی ، جب میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم کہاں تھی ؟ “ میں نے کہا : میں ایک صحابی کی ( ‏‏‏‏مسحورکن ) تلاوت سنتی رہی ، اس قسم کی ( ‏‏‏‏حسین ) قرأت اور آواز اس نے پہلے کسی سے نہیں سنی ۔ آپ میری بات سن کر اٹھے اور چل پڑے ، میں بھی آپ کے ساتھ چل دی ، آپ نے اسی آدمی کی تلاوت غور سے سنی اور میری طرف متوجہ ہو کر کہا : “ یہ ابوحذیفہ کا غلام سالم ہے ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے جس نے میری امت میں اس قسم کے افراد بھی پیدا کئے ہیں۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3445