کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 3433
- " العباس عم رسول الله صلى الله عليه وسلم وإن عم الرجل صنو أبيه ".
حافظ محفوظ احمد
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عباس ، رسول اللہ کے چچا ہیں اور چچا باپ کی ایک قسم ہے ۔ “ یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ ، سیدنا عمر بن خطاب ، سیدنا حسن بن مسلم مکی ، سیدنا علی بن ابوطالب اور سیدنا عبدالمطلب بن ربعیہ بن حارث رضی اللہ عنہم سے روایت کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3433
حدیث نمبر: 3434
- (هذا العباس بن عبد المطلب، أجود قريش كفاً، وأوصلها) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا : ”‏‏‏‏ یہ عباس بن عبدالمطلب ہیں ، قریش کے سب سے زیادہ سخی اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3434
حدیث نمبر: 3435
- " أنت عمي وبقية آبائي والعم والد ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزری ، جبکہ آپ حطیم میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : ” ام الفضل ! “ میں نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تجھے تو بچے کا حمل ہو گیا ہے ۔ “ ‏‏‏‏میں نے کہا : یہ کیسے ہو سکتا ہے ، جب کہ قریشیوں نے قسمیں اٹھائی ہیں کہ عورتیں بچہ نہیں جنیں گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ‏‏‏‏وہی ہو گا جو میں کہہ رہا ہوں ، جب بچہ پیدا ہو تو میرے پاس لے آنا ۔ “ ‏‏‏‏جب بچہ پیدا ہوا تو وہ آپ کے پاس لے آئی ، آپ نے اس کا نام عبداللہ رکھا ، اسے اپنے لعاب دہن کی گھٹی دی اور فرمایا : ” ‏‏‏‏لے جاؤ ، تم اسے عقلمند پاؤ گی ۔ ” ‏‏‏‏ وہ کہتی ہیں : میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گئی اور ساری بات انہیں بتلا دی ، انہوں نے اپنا لباس زیب تن کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، وہ خوبصورت اور درازقد آدمی تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو ان کی طرف کھڑے ہوئے ، ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور انہیں اپنی دائیں جانب بٹھا دیا ، پھر فرمایا : ” یہ میرا چچا ہے ، جو چاہتا ہے وہ اپنے چچا پر فخر کرے ۔ “ سیدنا عباس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اتنی تعریف نہ کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ایسے کیوں نہ کہوں ؟ حالانکہ آپ میرے چچا ہیں ، میرے آبا و اجدد کی نشانی ہیں اور چچا تو باپ ہی ہوتا ہے ۔ ” ‏‏‏‏
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3435