حدیث نمبر: 3432
- " أنت سفينة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ایک سفر میں تھے ، جب کوئی آدمی تھک جاتا تو اپنے کپڑے ، ڈھال اور تلوار وغیرہ مجھ پر ڈال دیتا ، حتیٰ کہ اٹھانے کے لیے مجھ پر بہت ساری چیزیں جمع ہو گئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم تو «سفينه» ( یعنی کشتی ) ہو ۔ “