کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ کی نفع بخش تجارت
حدیث نمبر: 3403
- " كم من عذق دواح لأبي الدحداح في الجنة - مرارا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ( ‏‏‏‏فلاں مقام پر ) فلاں آدمی کی کھجور ہے ، میں بھی اس کے ساتھ کھجوریں لگا رہا ہوں ، آپ اسے کہیں کہ وہ کھجور مجھے دے دے تاکہ میں اپنے باغ کی دیوار بنا سکوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : ”وہ کھجور اسے دےدے ، تجھے اس کے عوض جنت میں کھجور ملے گی ۔“ لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ۔ ابو دحداح اس کے پاس پہنچے اور کہا کہ کھجور کا درخت مجھے میرے باغ کے بدلے فروخت کر دے ، اس نے ایسے ہی کیا ۔ ابو دحداح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے فلاں کھجور کا درخت اپنے باغ کے عوض خرید لیا ہے ، اب آپ یہ درخت ا‏‏‏‏س ( ‏‏‏‏ضرورت مند ) آدمی کو دے دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ابودحداح کے لیے جنت میں کئی بڑے بڑے اور لمبے لمبے کھجوروں کے گچھے ہیں ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کئی دفعہ دہرایا ۔ ابودحداح اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہا : اے ام دحداح ! باغ سے نکل جا ، میں نے اسے جنت کے کھجور کے درخت کے عوض فروخت کر دیا ہے ۔ اس نے کہا : تو نے تو نفع مند تجارت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3403