کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: قریشی خواتین کی صفات اور فضیلت
حدیث نمبر: 3384
- " إن خير نساء ركبن أعجاز الإبل صالح نساء قريش، أخشاه على ولد في صغر وأرعاه على بعل بذات يد ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سودہ نامی صاحب اولاد عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا ، اس کے سابقہ فوت شدہ خاوند سے پانچ چھ بچے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ”تجھے کون سی چیز مجھ سے نکاح کرنے سے مانع ہے ؟“ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! اللہ کی قسم ! آپ تمام مخلوقات میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ، دراصل وجہ یہ ہے یہ بچے صبح و شام آپ کے پاس شور و غل مچاتے رہیں گے اور اس طرح آپ کے احترام و اکرام میں خلل پیدا ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”آیا اس کے علاوہ اور عذر بھی ہے جو تیرے لیے رکاوٹ بن رہا ہو ؟“ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! کوئی نہیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے ، بہترین عورتیں جو اونٹوں کی پشتوں پر سوار ہوتی ہیں وہ قریشی عورتیں ہیں جو اپنی اولاد کے بچپنے میں اس کا بہت خیال رکھنے والی اور اپنے خاوندوں کے مال و منال کی حفاظت کرنے والی ہیں ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3384
حدیث نمبر: 3385
- " خير نساء ركبن الإبل صالح نساء قريش، أحناه على ولد في صغره وأرعاه على زوج في ذات يده ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بہترین عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں وہ قریش کی نیک عورت ہیں ، وہ اپنے بچوں کے حق میں انتہائی شفیق اور خاوند کے مال و منال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہیں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3385