کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 3354
- " رأيتني دخلت الجنة، فإذا أنا بالرميصاء امرأة أبي طلحة، وسمعت خشفا أمامي ، فقلت: من هذا يا جبريل؟ قال: هذا بلال ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا ، اچانک وہاں میری نگاہ ابوطلحہ کی بیوی رمیصا پر پڑی اور مجھے اپنے سامنے والی جانب سے کسی کے حرکت کرنے کی آواز سنائی دی ۔ میں نے کہا : جبریل ! یہ کون ہے ؟ اس نے کہا : یہ بلال ہے ۔ پھر میں نے ایک سفید محل دیکھا ، اس کے صحن میں ایک لڑکی بھی موجود تھی ۔ میں نے پوچھا : یہ کس کا محل ہے ؟ اس نے جواب دیا : یہ عمر بن خطاب کا ہے ۔ میں نے چاہا کہ اس میں داخل ہو جاؤں اور ( ‏‏‏‏اندر سے ) دیکھ لوں ، لیکن عمر ! مجھے تیری غیرت یاد آ گئی ۔“ ‏‏‏‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا میں آپ پر غیرت کر سکتا ہوں ؟۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3354