کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: بن دیکھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کی فضیلت
حدیث نمبر: 3347
- " وددت أني لقيت إخواني، فقال أصحابه: أوليس نحن إخوانك؟ قال: أنتم أصحابي ولكن إخواني الذين آمنوا بي ولم يروني ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو دیکھوں ۔“ صحابہ نے کہا : کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم میرے صحابہ ہو ، میرے بھائی وہ ہیں جو بن دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے ۔“
حدیث نمبر: 3348
- " طوبى لمن رآني وآمن بي وطوبى ـ سبع مرات ـ لمن لم يرني وآمن بي ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس نے میرا دیدار کیا اور مجھ پر ایمان لایا ، اس کے لیے ایک دفعہ خوشخبری ہے اور جو ( اللہ کا بندہ) بن دیکھے مجھ پر ایمان لائے گا ، اس کے لیے سات دفعہ خوشخبری ہے ۔“
حدیث نمبر: 3349
- (قوم يأتون من بعدكم، يأتيهم كتاب بين لوحين، يؤمنون به ويعملون بما فيه، أولئك أعظم منكم أجراً) .
حافظ محفوظ احمد
صالح بن جبیر کہتے ہیں کہ صحابی رسول سیدنا ابوجمعہ انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے آئے ۔ ہمارے ساتھ رجا بن حیوہ بھی تھے ، جب وہ جانے لگے تو ہم ان کو رخصت کرنے کے لیے ان کے ساتھ نکلے ۔ جب ہم نے واپس ہونا چاہا تو انہوں نے کہا : تمہارے لیے میرے پاس ایک انعام اور حق ہے ۔ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کرتا ہوں ۔ ہم نے کہا : اللہ تم پر رحم کرے ، بیان کرو ۔ انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہمارے ساتھ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سمیت دس مزید صحابہ بھی تھے ، ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا ایسے لوگ بھی ہیں جو اجر و ثواب میں ہم سے بڑھ کر ہوں ، ہم تو آپ پر ( براہ راست ) ایمان لائے ہیں اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بھلا ( تم ایمان کیوں نہ لاتے ) کون سی چیز تمہارے راستے میں روڑے اٹکا سکتی تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اندر موجود ہیں ، ( تمہارے سامنے ) آسمان سے ان پر وحی نازل ہوتی ہے ؟ ( اجر و ثواب میں افضل لوگ ) وہ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے ، انہیں ( یہ قرآن مجید ) دو گتوں میں موصول ہو گا ، وہ اس پر ایمان لائیں اور اس پر عمل کریں گے ( حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا ہو گا نہ قرآن مجید کو نازل ہوتے ہوئے ) ، یہ لوگ اجر و ثواب میں تم سے افضل و اعلیٰ ہوں گے ۔“