کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: انصار کی میزبانی کا اعلیٰ انداز
حدیث نمبر: 3341
- (لقد ضحِكَ اللهُ- أو عجِب- من فِعالِكُما [بضيفِكما الليلة] ، وأنزل اللهُ: "ويُؤِثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصَة ومن يُوقَ شُحَّ نفسِه فأولئك همُ المفلحون". يعني: أبا طلحة الأنصاريَّ وامرأته) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : میں غربت ( ‏‏‏‏و افلاس ) میں مبتلا ہو گیا ہوں ( ‏‏‏‏اور ایک روایت میں ہے کہ اس نے کہا : میں مفلس ہوں ) ۔ آپ نے اپنی بیویوں کی طرف پیغام بھیجا ، انہوں نے جواب دیا : ا‏‏‏‏س ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ؟ ہمارے ہاں پانی کے علاوہ کچھ نہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏جو شخص اس کی میزبانی کرے گا ، اللہ تعالیٰ ا‏‏‏‏س پر رحم کرے گا ۔“ ‏‏‏‏ ایک انصاری صحابی ، جس کو ابوطلحہ کہا جاتا تھا ، نے کہا : میں کروں گا ۔ وہ اس مہمان کو لے کر اپنی بیوی کے پاس پہنچے اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی عزت کرنا اور کوئی چیز بچا کر نہ رکھنا ۔ اس کی بیوی نے کہا : اللہ کی قسم ! ہمارے ہاں صرف بچوں کے لیے آب و دانہ ہے ۔ ابوطلحہ نے کہا : تو اپنا کھانا تیار رکھ ، دیا جلا کے رکھ اور بچے جب شام کے کھانے کا ارادہ کریں تو انہیں سلا دینا ۔ چنانچہ ا‏‏‏‏س نے اپنا کھانا تیار کیا ، چراغ جلایا اور بچوں کو سلا دیا ۔ پھر وہ چراغ کو درست کرنے کے بہانے اٹھی اور اس کو ( ‏‏‏‏جان بوجھ کر ) بجھا دیا ، پھر ( ‏‏‏‏اندھیرے میں ) وہ دونوں ( ‏‏‏‏میاں بیوی ) مہمان کو یہ باور کراتے رہے کہ وہ بھی اس کے ساتھ کھا رہے ہیں ۔ چنانچہ مہمان نے کھانا کھایا اور ان دونوں نے بھوک کی حالت میں رات گزاری ۔ جب صبح ہوئی تو وہ ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم نے رات کو اپنے مہمان کے ساتھ جو معاملہ کیا ہے اللہ تعالیٰ ا‏‏‏‏س پر ہنسے ہیں یا اس پر تعجب کیا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ( ‏‏‏‏ان کی اچھی خصلت کو بیان کرتے ہوئے ) یہ آیت نازل فرمائی : ”اور وہ ( ‏‏‏‏دوسرے حاجتمندوں کو ) اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں ، اگرچہ ا‏‏‏‏ن کو سخت بھوک ہو اور جو لوگ نفسوں کی بخیلی سے بچ گئے ، وہی کامیاب ہو گئے ہیں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المناقب والمثالب / حدیث: 3341