حدیث نمبر: 3295
- (إنّي، وإيّاكِ، وهذين، وهذا الرّاقد- يعني: عليّاً- يوم القيامة في مكان واحد، يعني: فاطمة وولديْها: الحسن والحسين رضي الله عنهم)
حافظ محفوظ احمد
ابوفاختہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے ہاں ہی رات گزاری ، حسن و حسین سو رہے تھے ۔ ( رات کو ) حسن نے پانی مانگا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مشکیزے کی طرف گئے ، پیالے میں پانی نکالا ، پھر اسے پلانے کے لیے لے آئے ، ( اب حسن کی بجائے وہ پیالہ ) حسین نے پینے کے لیے پکڑنا چاہا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پینے دیا ، پھر حسن سے ابتداء کی ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ایسے لگتا ہے کہ آپ کو حسن زیادہ محبوب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ بات نہیں ہے ، ( دراصل ) حسن نے پانی پہلے مانگا تھا ( اس لیے پہلے پینے کا حق بھی اسی کا ہے ) ۔ “ پھر فرمایا : ” میں ، تو ، یہ دونوں اور یہ سونے والے ( علی رضی اللہ عنہ ) روز قیامت ایک مقام میں ہوں گے ۔ “ ان دونوں سے مراد سیدہ فاطمہ کے بیٹے حسن اور حسین ہیں ۔